منٹو کا وہم !
کالج کا زمانہ بھی کیا خوب زمانہ ہوا کرتا ہے روز تیار ہونا اور باقاعدگی سے کالج نزول ہونا پڑھنے کا کوئی خاص شوق تو نہ تھا مگر ہمارا روز باقاعدگی سے کالج جانا اس بات کی دلیل تھی کہ یقیناً ہم کالج کے ہونہار طالب علم ہیں جو بلا ناغہ ہر تدریسی عمل میں ایک کلیدی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں روز صبح اٹھنا اور کبھی حجامت کے ساتھ یا کبھی بغیر حجامت فقط چائے پر گزارا کرکے والد صاحب کے ساتھ صاحب سواری بن جانا یوں والد اگر پوچھ لے کہ حجامت کیوں نہیں کی تو بتا دینا کہ آج پرچہ ہے بس وقت نہیں ملا یا پھر ریزر پرانا تھا وغیرہ وغیرہ
امی جان کا روز ہماری کمزور ہونے کی دلیل بھوکے پیاسے کالج جانے پر اختتام ہوا کرتی تھی اور یوں برے والد صاحب ہی ہوا کرتے تھے جو کچھ کہنے سے قاصر تھے اپنے ہی اولاد کو اکثر جب بہت زور ہوتا امی جان کا ہماری بگڑتی ہوئی صحت پر تو ہم ایک عدد سیب لے کر گاڑی میں بیٹھ جایا کرتے اور یوں واپسی پر فقط پورا دن ایک سیب پر گزارنے کی داستان والدہ کو سنایا کرتے تھے تاکہ امی ایک بار اور والد صاحب کو چٹکی نوچ دے ماں کے پوچھنے پر بتایا کرتے تھے کہ پیسے کم تھے کوئی کتاب لے لی تھی یا پھر ایک پرچے کی تیاری کرنے کے لئے ایک عدد نئی چوپڑی (کی) آئی تھی وہ لے لی غرض مقصد یہی ہوا کرتا تھا کہ پیسے ملتے کہاں ہیں اتنے کہ آپ کا بیٹا کچھ کھا سکے اور یوں ایک بار پھر والد صاحب ہی ممتا کے قہر کا نشانہ بنتے جس کی شدت اور بار بار کے تقاضوں نے انہیں اتنا خوفزدہ کر دیا تھا کہ اب وہ 200 سو روپے دیا کرتے تھے روزانہ
بس جناب اب کیا تھا کالج جانا اور جاتے ہی کینٹین کی طرف روانہ ہو جانا ٹیچرز واقف ہوں یا نہ ہوں کینٹین کا ہر ویٹر ہم سے خوب واقف تھا بات یہ تھی کہ اپنی عزت تو کچھ خاص نہ تھی مگر جناب طاقت ور آدمی کا بیٹا ہونا کیا کسی طاقت سے کم ہوا کرتا ہے ہر کوئی جانا کرتا تھا کہ کسی بڑے گھر کا چشم و چراغ ہے جس کی مال و دولت نصیب کا وہ بھاگوان دروازہ ہے جہاں وراثت ہی کافی ہے صاحبزادے کو شہزادہ بنانے کے لئے
کلاشنکوف کا گرز لئے حکومتی دربان ہر وقت ہمارے ساتھ ساتھ چلا کرتے تھے اور یوں ظاہراً ایسا محسوس ہوا کرتا تھا کہ کوئی منصب دار اپنی سلطنت کا معائنہ کرتا پھر رہا ہے بہرحال کینٹین پہنچتے ہی چائے کا تقاضا اور سگریٹ کا دھواں منگوانا اور یوں دن کا آغاز دن کیسے گزرے کے احساس لئے فقط خاموشی کی حدوں میں کینٹین کے اس شور سے ہوا کرتا تھا جو کسی بھی کینٹین کی فضاؤں میں ہوا کرتے ہیں اور جہاں شاعرانہ طبیعت رکھنے والے شاعر اپنی سوچ میں ڈھلے خاموشی کی صفت میں شاعری کیا کرتے ہیں
شور کس بات کا مچھا ہے یہاں
ابھی تو دیر ہے صبح میں رات باقی ہے
یوں رفتہ رفتہ ایک ایک کرکے دوستوں کا آنا اور پھر کالج کے سارے آوارہ مزاج لڑکوں کا جمع ہو جانا دن کے آغاز کی ایک خصوصیت ہوا کرتی تھی جس کا مرکز بہرحال کینٹین ہی ہوا کرتی تھی
کبھی کوئی اگر کالج کے لیکچر کی ضرورت پر اگر روشنی ڈال دیتا تو اس کو اتنی گالیاں پڑھا کرتیں کہ گویا اس کے باپ کی توبہ جو کبھی کلاس کے قریب سے بھی گزرا
گو کہ کالج کے زمانے میں ہماری صبح کے آغاز میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوا کرتی تھی مگر یہاں یہ کہنا پڑے گا کہ اکثر کم بختی وہاں ہوا کرتی ہے جہاں لوگ غافل ہوا کرتے ہیں وہ تو خدا بھلا کرے عرفان کا جو واحد وہ شریف النفس شخص تھا جس کی استاد سے لے کر کالج کا خاکروب سب عزت کیا کرتے تھے بھائی کیوں نہ کرتےآخر دوست بھی تو ہمارا تھا اور یوں ہمیں اس کی موجودگی اکثر یہ گمان دلایا کرتی تھی کہ شاید ہمیں بھی لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتے ہیں
بات یہ تھی کہ عرفان ہماری کلاس کا ہونہار طالب علم ہوا کرتا تھا یوں گولڈ میڈلسٹ بھی اب یہ بد نصیبی اس کی تھی کہ وہ ہمارا دوست تھا اور بہرحال خوش نصیبی ہماری کہ وہ ہمارا دوست یہی وجہ تھی جو ہر سال خدا پر یقین ہوا کرتا تھا کہ ہم پاس ہو جائیں گے اور عرفان پر بھروسہ کہ وہ ساتھ دے گا
سبق یاد کیا کرنا ہے اور جو یاد نہ ہو اس کے کارتوس کس طرح بنانا ہے یہ سب ہمارا یہی دوست ہمارے لئے کیا کرتا تھا یوں ہر امتحان کی رات بیچارہ 11 آدمیوں کے کارتوس گھروں کو پہنچاتا اور دوستی کا حق ادا کرتا گو کہ خود عرفان صاحب عرفان اور بہت قابل اور جید قسم کا عالم تھا اور رجحان ہمیشہ خود حاصل کیۓ علم پر ہوا کرتا تھا یہاں تک کہ خود وہ کبھی کسی قسم کی لغویات میں شامل نہ رہا مگر کیا کرے دوستی چیز ہی بری جو قابلط کو بھی بلا چوں چراں قبول ہوا کرتی ہے عقد کی صورت بس کیا کہنا ہماری اس لازوال دوستی کا جو ساری زندگی عرفان کی صورت کالج کی تدریسی آرام گاہ یعنی کلاس میں اور ہر تعلیمی احکام میں ہمارا کلاس میں ہر وقت موجود واحد مہرہ ہوا کرتا تھا
یوں 5 سال کب کٹ گئے کچھ پتا نہ چلا اور ہر سال ہماری حاضری اور غیر حاضری عرفان بھائی ہی پوری کیا کرتے رہے عجب بات یہ تھی کہ کلاس میں گو کہ لوگ دس ہی ہوں مگر حاضری 22 کی لگا کرتی تھی یوں لیکچر کے باہر ہمارا سوال یہ نہیں ہوا کرتا تھا کہ آج کیا پڑھایا بلکہ یہ ہوا کرتا تھا کہ حاضری لگا دی تھی یا نہیں اگر کبھی وہ جنجھلاہٹ میں جواب نہ دے تو گالیوں اور گولیوں کے ان تحائف سے اس کا خیر مقدم ہوتا کہ عزت تار تار ہو جاتی یوں اس خوف نے اسے کم سے کم ہماری پیشی (attendance) لگانے سے کبھی باز نہ رکھا
جہاں اتنی برائیاں ہوں وہاں بندے میں اچھائی بھی ضرور ہوا کرتی ہے بس یہی اچھائی دراصل ہماری وہ خصوصیت ہے جسے ہمیشہ ہم سرور کی صورت لیا کرتے تھے اور وہ تھی کالج میں کھیلنا اور لائبریری میں کتب بینی گویا پڑھائی سے فقط کالج میں ہی غافل رہا کرتے تھے لائبریری ہمارا مسکن ہوا کرتا تھا اور سب دوست کالج کے بعد ایک کے بعد ایک وہیں جمع ہوا کرتے تھے اس میں کوئی شک نہیں کہ دوستی کے معاملے میں ہم نے پڑھائی کو ہمیشہ ہی قربان کیا یہی وجہ ہے جو لائبریری میں ہر آنے والے دوست کو ایک عدد چائے کی صورت کینٹین تک ہم ہی لے جایا کرتے تھے یوں لائبریری میں اکثر ہم کینٹین پر ہی پائے جاتے تھے بہرحال لائبریری کی اچھی بات یہ ہوا کرتی ہے کہ وہاں جانے والا پڑھے یا سوئے ہوتا لائبریری میں ہے
ایک دفعہ امتحانوں کا زمانہ تھا ہم حسب معمول بالکل پریشان نہ تھے اور عرفان ذمہ داری کے احساس پر ہر روز ہمیں لیکچر دیا کرتے تھے یوں ہر لیکچر پر ہمارا جواب یہی ہوا کرتا کہ آخر تو کس مرض کی دوا ہے
ایک دفعہ پری ٹیسٹ کا حال کچھ یوں ہے کہ ہم حسب ضرورت اس دن وقت سے پہلے کالج میں پہنچ گئے آہستہ آہستہ کلاس میں اور لوگ بھی آنا شروع ہو گئے یوں تقریباً تمام لوگ کلاس میں آ موجود ہوئے
گو کہ ہمیں تعلیم سے زیادہ پیار تو نہیں تھا مگر کیوں کہ ہم عرفان جیسے تعلیمی اسناد و قابلیت رکھنے والے کے دوست تھے اس لئے امتحان میں قربت دوستی کی پہچان ہوتی تھی اور نشست ہمیشہ دوست کے سائے میں ہوا کرتی تھی مگر یکایک معلوم ہوا کہ آج فقط پہلے 100 آنے والے طالب علموں کا پرچہ ہوگا باقی کل دیں گے اس بات پر ہمیں کوئی خاص فکر نہ ہوئی کیوں کہ آج ہم پہلے ہی چند لڑکوں میں کلاس میں موجود تھے اس لئے ہمارا نام تو ہونا ہی تھا مگر جب کسی نے ہم سے کہا کہ تو نے کیا اپنا نام حاضری کے رجسٹر پر وقت آمد کے ساتھ لکھا ہے یا نہیں تو ہماری جان ہی نکل گئی کبھی کلاس اٹینڈ کی ہوتی تو امتحان دینے کے اصول بھی پتا ہوتے سخت غصہ آیا خود پر اور خوف بھی حاوی ہوگیا یوں غصہ فقط عرفان پر زیادہ آیا کہ یہ ہمارا کیسا دوست ہے جس نے اتنی ضروری ہدایت ہمیں نہیں بتائی۔۔۔۔جب کہ ہم اس کو پڑھنے کا پورا موقع دیا کرتے ہیں تاکہ وہ ہمارا خاص خیال رکھے اور کلاس میں ہونے والی ہر گفتگو کو چھانٹ کر فقط ضروری ہدایت ہی ہم تک پہنچائے مگر آج تو گنگا ہی الٹی تھی پریشانی نے جب آج کی جدائی کو خطرناک صورت تک وسوسے کی شکل دے ڈالی اور خوف کو شکل دے کر لا کھڑا کیا تو ہم شور مچاتے ہوئے استاد کی اس غیر شرعی اور غیر اخلاقی حد بندی کے خلاف کھڑے ہوگئے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صرف کچھ اشخاص ہی امتحان دیں گے چونکہ ہم کالج میں مشہور حیثیت رکھتے تھے اور والد صاحب کے اثر و رسوخ کی گونج ہماری آواز میں بھی پائی جاتی تھی اس لئے کالج کے اکثر استاد بھی ہم سے کچھ گھبرایا کرتے تھے اتنی دیر میں ہم نے استاد سے ذکر کیا کہ ہم سب سے پہلے ان چند لڑکوں میں موجود تھے جو صبح ہی امتحان کی غرض اور نیت سے کالج پہنچ گئے تھے اب اگر ہمیں معلوم نہیں تھا کہ نام لکھنا ضروری ہے تو کیا ہم امتحان نہیں دے سکتے یہ سننا تھا کہ عرفان جو ہمارے قریب بیٹھا تھا ہمارے ہاتھ کھینچنے لگا کہ بیٹھا جاؤ مگر ہم کب اب کسی کی سننے والے تھے شور مچا دیا کہ میں یہ امتحان نہیں ہونے دوں گا اور دیکھ لوں گا سب کو یہ سننا تھا کہ عرفان تو دبک کر بیٹھ گیا اور استاد محترم حاضری کے رجسٹر کی جانچ پڑتال کرتے نظر آئے ہم حسب ضرورت غصے کو ماتھے پر رکھے استاد محترم کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے رہے کچھ ہی دیر میں جناب استاد نے سر اٹھایا اور کہا کہ آپ کا نام تو موجود ہے پھر کس بات پر آپ اتنا شور مچا رہے ہیں بس جناب پھر کیا تھا عجب شرمندگی تھی آس پاس سب کی نظریں تھیں اور ہم تھے اداس ہم معافی چاہتا ہوں معافی چاہتا ہوں کرتے کرسی پر بیٹھ گئے اور پھر ایک بار عرفان کو گالی جڑ دی یہ کہہ کر کہ اگر تو نے لکھ دیا تھا میرا نام تو بتلا ہی دیتا یہ بے عزتی بھی تیری وجہ سے ہوئی اس دن ہمیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ عرفان خالی دوست ہی نہیں ایک وہ کردار ہے جو ہماری تعلیم میں خدا کی ایسی عطا جو سائے کے ساتھ ساتھ ہمارا ہمنشین یوں اس وسوسے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اس دن میری نظر میں وسوسے دراصل اپنی وہ کمزوریاں ہیں جو ہم لیتولالی اور بے خیالی میں خود انجام دیتے ہیں اور پھر ان غلطیوں کا نظر میں آجانا اور یوں ہمیں خود کے کیۓ ہوئے عمل سے نقصان پہنچنا ہی وہ خیال ہے جو وسوسہ بن کر شیطانی حربے کی مانند ان دیکھے پریشانی اور ناامیدی کا لبادہ لے لیا کرتا ہے
منٹو کا تجزیہ ہے جہاں ارادوں میں یقین ہو وہاں عمل وسوسوں سے پاک ہوا کرتا ہے اور انجام بخیر ہوا کرتا ہے یہ اس لئے کہ جہاں ہمنشین دوست کی صورت حسین ہو وہاں خطرات اکثر برکات میں بدل جاتے ہیں
منٹو کا وسوسہ
از قلم ڈاکٹر رضا حیدر