دل

یوہیں آ کر کسی کے دل میں بسنا

یہ پہلو میں یوں آنچل کا سمٹنا

خودی اقرار کرنا اور خودی یوں پھر مکرنا

سنور کر یو خوری اور پھر بھکرنا

خود ہی کو خد ڑرانہ اور خدی سے خد ہی ڑرنہ

جدا راہیں مگر ان پہ گزرنہ

یوں گرتے اور سنبھلتے روز چلنا

کسی گھر کا کسی گھر سے
اجڑنا

یہ جینا روز اور یوں روذ مرنا

تمھے معلوم ہے،

کتنا یہ مشکل ہے بچھڑنا

(ڑاکٹر رضا)

مانگ لیتا

خدا سے مانگ سکتا جو خدا سے مانگ لیتا میں

اجر جو حور کا لکھا تو تجھ کو مانگ لیتا میں

خدارا کیسی منزل ہے کہ ہر راستہ کٹھن مشکل

جو گر وہ زاد راہ لکھتا تو تجھ کو مانگ لیتا میں

(ڑاکٹر رضا)

Maqam

علم کو عروج دیا اور عروج کو تیرا مقام

مقام کو اپنی منزل بنا ڈالا اور منزل کو امام

امام کو ہدایت ٹھرایا اور خد کو منزل اطاعت پر

سر خم کیا تسلیم اور جسم بیدم

سر جہکا دیا اور زباں کو قفل کر ڈالا

سجدہ کیا سجدگاہ کی جگہ

بندگی کی ذندگی دے کر

زندگی دی بندگی سمجھ کر

میں پکارتا رہا تو فقت خد کو سنوارتا رہا

میں چپ ہوگیا تو سمجھا سو گیا
میں کوچ کر گیا تو سمجھا مجھ کو چھوڈ گیا

(ڑاکٹر رضا)

Thief of ❤️

You are Full of life and belief

A picture of hope where light and darkness does not shatter inner brightness

A picture that ignite living a life for the one as beauty and the one as duty

A picture that shakes body and wakes soul

A picture that blend light in to body and body in to beauty expressing the sign of designer

A picture that interacts without mind and react with ❤️ heart

A picture of loneliness in an atmosphere of serenity as a showcase of display and vanity

A picture with epic heart and buried mind where matter is passion and to give away life in succession.

A picture as stupifying poison that no more need drugs

A picture that capture the beauty of surround as if nothing remains in around

Why not say you are a complete serenity which may become dusty if not kept in vanity .

You are a heartless soul with so many snatched heart in body.

A cupid of love and goddesses of passion where sights are cuffed in infatuation and soul are barricade in slot and session beats become seized and body become freeze, heart melts and desire felt , nothing console expression and there remains only impression.

Queen of beat a known thief of heart which snatches mind and slaughter soul causing words to become slurred and sight to become blurred,conscious become fade and king to become servant or maid .

Nothing can grip the feel of your impression and the girth of your magnificent expression but the word of silence that tags and trigger mind as love and in love . (Dr Raza)

سمٹ

دل سمٹ جائے بھکر کر ہے محبت میں نہیں

ہم سمجھتے ہیں پلٹنا تیری فطرت میں نہیں

بس نظر اپنی زرا دیر کو آلودہ کر

میں چلا جاؤں گا گر تو میری قسمت میں نہیں

(ڑاکٹر رضا)

زرا

ایسا پہلو ہے محبت کہ اثر درد لیے

ایک دیدار فقط ایسا کے ہو قرض لیے

ہر گھڑی پردہ اے شب چاک کہ آویزاں سحر

جیسے ہر شب ہو ہر اک شام لیے بس منتظر

میرے محبوب میری نظر سے انصاف تو کر

نہ پلا پانی مگر دشت کو سیراب تو کر

(ڑاکٹر رضا)

Love and patience

Philosophy:

Relation is a matter of regard only; if you can deny you can always defy.

Permission is a formality and is a structured distance that marks domain and dominion as segregation imposing parameters.

Giving away is attitude that shows magnitude filled with honor, love, Passion and affection

Obedience is submission at desire of the one in passion making desire as Accention and Desiree in succession.

Hold the breath to avoid wrath; you shall survive the aftermath

Patience is a session with intercession that crosses intersections without section and unwanted action

(Dr Raza)

زرا

میں سن رہا ہوں تیری بات لکھ رہا ہے جو تو

ہر ایک لفظ میں پیوستہ دکھ رہا ہے جو تو

خدا کہ واسطے مر شد ٹہر تو جا اتنا

بنا سکوں تیری تصویر دکھ رہ ہے جو تو

ڑاکٹر رضا

قرآن اور اہل بیت اک امر (قرآن) ، دوسرا عمل (اہل بیت)

دراصل موضوع کتاب کی پیروی نہیں بلکہ کتاب کا متن ہوا کرتا ہے یو متن اس طریقے پر چلنا جس کی پیروی کسی من کے تن سے جڑی ہو

بس کتاب کیسا بھی متن رکھتی ہو آور کسی بھی زبان میں کیوں نہ ہو جب تک متن پیروی میں ڈوبا رتن ہوگا من ہی تن لیے واحد زمن ہوکا

اسی خاصیے پر قرآن بھی تاثیر نورتن لیے آمد سخن ہوا

ایسے کے ازن لیے رسم نزول میں اک سخنور نے راستے کو زباں بخشی

یو ں زباں نے کتاب کو متن دیا اور کتاب نے من کو رتن دیا

یہ ایسے کہ رتن عمل سے امر بن کر الفاظ میں قید ہوگیا اور قیدی محتاج پیروی بن گیا

میری نظر میں کتاب دین میں پہلا مظہر نہیں بلکہ عمل پر مبنی امر ہے یعنی عمل نے امر کو جنم دیا یوں امر پیروی کا رتن بن کر من کا محتاج بنا اور پھر ہر زماں اور زباں سے آزاد نثر بن کر ہدایت کا انصر بنا۔

ییہی وجہ ہے کہ قرآن اکیلا ہدایت کی منزل نہیں بلکہ ہادی من کی صورت منزلہ ہدایات پر ضروری امر ہے جو اپنے عمل سے لوگوں کو زباں اور زماں کی فکر سے آ زاد کردے

قول رسول اللہ ” میں دو چیزے چھوڑے جا رہا ہوں، اک قرآن اور دوسری میری عترت

گویا کتاب امر ، عترت عمل یعنی قرآن رتن ، اہل بیت متن اور ہدایت نورتن کی صورت من یعنی (اہل بیت) کی پیروی

(ڑاکٹر رضا)

دشت

دشت بے آب میں سراب کو پانی سمجھوں

اس تعلق میں چھپا پیار کہانی سمجھوں

اب بچا ہے ہی کیا آغاز سے الفت میں تیری

ڑھلتی اس عمر کو اب پھر سے جوانی سمجھوں

(ڑاکٹر رضا)

تصبیح نماز سجدگاہ قاتل لیے ہوۓ

گو پڑھ رہے نماذ ہیں باطل لیے ہوئے

واقف نہیں ہے کوئی بھی اپنی نماز سے

بس اک وضع لباس مقاتل لیۓ ہوۓ

(ڈاکٹر رضا)

Mutta

سورة النِّسَاء

یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (۲۵) سورة النِّسَاء

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے (۲۴)

سورة النِّسَاء

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (۲۵)

سورة النِّسَاء

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے (۲۶)

سورة النِّسَاء

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو (۲۷)

سورة النِّسَاء

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے (۲۸)

So what stops you to obey the word of God when rule as law is itself definable hence being floated to be understand and hold therefore oblige as verdict.

یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (۲۵)

I am astonished over this deliberate act of faithful who disembarks hence defy the truth behind the word as verdict; may it be any reason or self desired prerogative.

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے (۲۶)

Rules and legislation carry within procedure and ways to carry out the paramount law.

They explain with relevant reference variant clause hence chapter and articles that may support them therefore to make understand the logical theme behind the law.

(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے (۱۳)

Such themed application however has virtual explanation here as well and is a clear verdict of understanding that does not need further and farther elaborations as consult.

یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (۲۵)

Premises is a demarcation that delineate extent around and within as boundary.

It’s a warning as omen; that holds and herald individual within and without regarding trespassing.

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے (۲۶)

Besides all regulated and guarded acts have contained penalty in case of disobey and we can very well see here as well that the same order of demarcation hence restrain carries within the penalty as well.

اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا (۱۴)

Additionally being a unique concept as book; here the order carries a reward as well if obliged and carry out satisfactorily.

کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے (۲۶)

سورة النِّسَاء

Now selectively moving towards our topic of extreme conflicts between faithful on the verdict of God as Ayah or verse; it’s evident that this ayah /verse have totally been disowned by Muslims though considering; still within faith.

وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں (۷)

سورة آل عِمرَان

Here it must be notify that; truth is there in its real form and format; not necessarily one has to follow as a practitioner if he does not desire and if it’s the desire of Lord as well thus for easiness and abstain; but disbelieving the same in theory out rightly reject claim as belief hence under belief as Muslim.

(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا (ہے) نازل کیا جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

(۴)

سورة آل عِمرَان

My point is; we must understand! This is, a disobedience of the verdict of Quran and under no means one should himself within the prestige and as souvenir as follower if he denies this lawful act without the reasonable discontinuation of God as new verdict.

Close scrutiny over the subject reveals only one thing and that is one who is not going to believe will not believe for he is in disbelief of the subject therefore to negate and defy by all means ;for his understanding to understand the lay out has been snatched because of his enmity against Quran.

تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں (۷)

سورة آل عِمرَان

If I scrutinize decades of conflict and similar controversy within faith as Muslim sect; understanding remains that basic conflict lies behind behavior and self prerogative as ijtihad (Self Decision by Counsel or expert under command of Fiqah).

Wrong interpretation, undisclosed reasons, concealments of fact, and unprecedented attitude towards public therefore to keep them under dominion of their hold as only one Faqih; are all factors behind this undefined Quranic versatility.

Resultant; the themed mystery became the reasons of denial to the extent that now the book is challenged by their own follower as Fake and Haraam hence a reason of conflict cum controversy tagging each other as non Muslim and similarly tethering and tearing own verse as Quran.

Logically it would have a decent reason among all as follower; declaring it a Quranic version in terms of legality and thereafter segregating view and essence of the verse with reference and refrain as prohibition on Fiqah basis being follower of their Imams.

But on the contrary we see difference to the extent that they out rightly reject the verse and its reality behind hence putting and subjecting it as Haraam and illegal therefore tagging perhaps null and void.

مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں

سورة آل عِمرَان

Seemingly over influence constrained social and societal set up is the dominant factor is territorial belief but when I see similar belief all over around Globe as Fiqah this reason becomes in valid hence explaining some other factor behind the myth as disbelief.

Till now I am unable to dig the exact myth behind this outright rejection yet one dominant factor do console as input and this is the same etiological conflict between Muslims among as on caliphate.

Logically and legally practices that were common within and in tenure as era of Muhammedan with a note of Shariah; has compulsion and obligation as believe if it’s not the part of decorum as Quran and even it may be.

Now such valid rules that are part and parcel of Muhammedan era must not and shall not by any prerogative be the reason of Ijtihad or decision making as prerogative in later to come days .

But here as per history we see prerogative of desire of one among as caliph thereby scrolling the rule of law put up by Shariah to treat it like family personnel law hence disembarking from belief and prohibiting from practice like order of the day.

سورة النِّسَاء

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو (۲۷)

This is the reason which took plight in actual for from here all grouping as one under asylum and rule as prerogative of ale-Muhammad and ALi (A.S)segregated on the issue condemning it above the law and in audacity.

(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے (۱۳)

سورة النِّسَاء

So actually and with above reference of the ayah this is a clear fact that the same prerogative was an audacity to change and invalidate what God has demarcated as law and legislation and under no means the same can be made the rule as legitimate desire of one in reign.

اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا (ہے) نازل کیا جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

(۴)

سورة آل عِمرَان

So under no means this change as personnel desire to disown the concept of God can be own yet we see instead; a rail of maligning and beating against the bush started hence tethered the brilliant concept of God Possession as desire.

Here it is to be pointed out that many still claims that the same was meant to fulfill initial requirement during and as a result of eventual requirement and has no validity thereafter.

But on this contest again this ayah explains elaborately that;

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے (۲۶)

سورة النِّسَاء

One more thing that is an essentiality of understanding within this ayah is the element of penalty between a wife and the one as under contractual marriage.

Here we see that penalty itself define something that is different from the version of normal affairs of business and that is;

اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے)

(۲۵)

سورة النِّسَاء

So this segregated concept among dispensing of punishment itself has reason of application as valid; for anything that is being put as law in form and format of punishment and its remedy; the same itself always declare validity till it’s being eradicated or changed by authority himself.

In my opinion this ayah is a complete stipulated concept through which one can easily debar himself from heinous and dirty crime of Zina (Sexual intercourse without legality of marriage as compulsion and as has been cited by Lord.

We must understand! It’s the intention that is the main stance behind any act especially belief.

Though verbal belief can put you within corset of Islam but nevertheless; by hearted belief remains the matter and is only exhibited when someone; believably practice.

Sacrifice and submission as sacrificial in the name of God has no factor to authenticate but it’s a belief and intended theme as intention and verbal slogan as “Allah -ho- Akbar” that warrants hence authenticate the sacrificial within the concept and as per requirement of the law therefore in the name of God hence halal.

Similarly Nikah (Marriage) has no physical element that may rule out intention but belief and security as mehar that works on the principle of safety.

Similarly this concept as witness and legality to pair in the name of Lord is the only thing that makes marriages legal and abided contract for indefinite period that may actually roll from an hour to death whatever circumstances grant and moments allow hence agreement by the parties to live together with decided mehar and similar legitimacy as generation.

Can’t we see these social deviations that in spite within faith as Muslim but still almost everyone are under the threat of perhaps unseen Zina if at all exposed to situation?

So if law of nature and rule of God allows what can be done through agreement and in belief of God; what stops to follow as faith rather to dung own self as in disobedience?

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے (۲۸)

سورة النِّسَاء

In my opinion this penalty to disown the declared version as rule of law is to be bear by all those who negated the verdict of God on principle of fatwa hence within and with one men show; as desire or prerogative;and in audacity of the One(SWT).(Dr Raza)

جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

(۴)

سورة آل عِمرَان

Mutah (contract Marriage); a biddable Law that became the formidable ruling of the one men Show as Fatwa (Ijtihad (Self Prerogative), By Dr RazaHaider, “In my opinion this penalty to disown the declared version as rule of law is to be bear by all those who negated the verdict of God on principle of fatwa hence within and with one men show; as desire or prerogative; and in audacity of the One (SWT). (Dr Raza)

Dr RazaHaider

سورة النِّسَاء

یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (۲۵)

                                            سورة النِّسَاء          

 

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب…

View original post 2,456 more words

فطرت

اپنا دامن بچا رہے ہیں وہ یوں

نازکی اپنی دکھارہے ہیں وہ یوں

ان کی طبیعت میں قربتیں نہ ملال

اپنی فطرت بتارہے ہیں وہ یوں

(ڑاکٹر رضا)

کوئی تو ہوگا

کوئی تو ایسا ملےگا تجھ کو

جو سن سکے گا تیری وہ دھڑکن

جو مسکرا کر قبول کر لے گا تیری خواھش پے تیرا مسکن

جوجان لے گا یو دل کی باتیں جو دل میں رھ جاتی ہیں نہ چاھتے

جو کہہ سکے گا تیری زبان میں تیرا وہ وعدہ تیرا ارادہ

کوئی تو ہو گا جو تیرا ہوگا تیرا تصور تیرا وہ خاکہ

کوئی تو ہوگا جو تیرے آنچل میں آ کے خد کو خدی کو کھوکر خدی میں تجھ کو خدا بنا کر مجاز خالق خدا سا لے گا

کوئی تو ہوگا جو شام ڈھلتے رخ جبیں کو جبیں پہ رکھ کر ثناء کرے گا

کوئی تو ایسا تیرا بھی ہوگا جو خد کو تجھ پر فنا کرے گا

تو نہ کرے گا وہ نہ کرے گا
تو ہاں کرے گا وہ ہاں کرے گا

اطاعتوں کی وہ منزلوں میں تیری اطاعت وہ یوں کرے گا

کے جیسے خالق ھو توہی مالک کہ جیسے واحد کوئی ہو زاھد

(ڑاکٹر رضا)

زر و شر

نزاکتوں میں گہرے حسن پر عجب ہے غرور

حثار حسن کے آغوش میں یہ کیسا سرور

جمال اپنے عروج و کمال پر ہے نمود

ہر ایک شہ ہے تقاضہ لیے کہ جیسے ہو سود

وجود گو کے ہے موجود سامنے میرے

عجب ہے زات کے
ہر چیز یوں کہ جیسے جمود

بہک رہا ہوں میں کیوں کر تیرا حثار لیے

نہ پوچھ مجھ سے کہ کیا کیفیت ہے پیار لیے

نشے میں چور ہوں گو ہوش میں بےہوش نہیں

زباں ہے چپ ہاں دھڑکن میری خاموش نہیں

(ڑاکٹر رضا)

Jehnum

وجود نور میں تو انتہاء طور لیے

نظام خلق میں چہرا یو حسن حور لیے

مزاج میں نہ میری عاشقی نہ دیوانہ

ہے یہ حصار تیرا وجد میں تو سور لیے۔

(ڑاکٹر رضا)

Hoor

وجود نور میں تو انتہاء طور لیے

نظام خلق میں چہرا یو حسن حور لیے

مزاج میں نہ میری عاشقی نہ دیوانہ

ہے یہ حصار تیرا وجد میں تو سور لیے۔

(ڑاکٹر رضا)

مروت

مروت رشتوں میں عزت کا واحد در ہے

یہ لحاظ کی چادر میں ادب کا مسکن ہے

یہ خدی میں سخاوت کا پیکر اور انا کا وہ پھول ہے جس کی خوشبو رشتوں کو مروت کے صدقے دوام بخشتی ہے

یہ کیفیت میں چھپی وہ نا ہے جو طبعیت میں ہاں پیدا کردے

(ڑاکٹر رضا)

مروت

مروت رشتوں میں عزت کا واحد در ہے

یہ لحاظ کی چادر میں ادب کا مسکن ہے

یہ خدی میں سخاوت کا پیکر اور انا کا وہ پھول ہے جس کی خوشبو رشتوں کو مروت کے صدقے دوام بخشتی ہے

یہ کیفیت میں چھپی وہ نا ہے جو طبعیت میں ہاں پیدا کردے

(ڑاکٹر رضا)

علی علی

امیرالمومنین مولائےکائنات مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام
کی شانِ اقدس میں
22 مستند احادیث مبارکہ *حدیث نمبر :-1*

“علی (علیہ السلام ) کا چہرہ دیکھنا عبادت ھے”۔
بحوالہ :- (مستدرک الحاکم جلد 3 صفحہ11) *حدیث نمبر :- 2*

“علی ( علیہ السلام) کا ذکر عبادت ھے”۔
بحوالہ:- (کنز العمال جلد11صفحہ601) *حدیث نمبر :- 3*

“علی(علیہ السلام) کو مجھ (ص) سے وھی نسبت ھے ، جو موسی (ع) کو ہارون (ع) سے تھی”۔
بحوالہ :- (صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 1142 ، صحیح مسلم جلد31 صفحہ نمبر5931) *حدیث نمبر :- 4*

یوم خیبر ، “کل علم اس کو دوں گا ۔ جو اللہ ، اسکے رسول (ص) کا محبوب ترین ھوگا”۔
حوالہ :- (صحیح مسلم جلد31 صفحہ5917) *حدیث نمبر :- 5*

“میرے بعد جو چیزیں باعث اختلاف ھوں گی ، ان میں علی (علیہ السلام) کی عدالت سب سے بہترین ھے” ۔
بحوالہ :- (کنز اعمال جلد13 صفحہ 120) *حدیث نمبر :- 6*

“علی (علیہ السلام) تمہارے درمیان بہترین حاکم ھے”۔
حوالہ :- (کنز اعمال جلد 13 صفحہ 120) *حدیث نمبر :- 7*

” میں سردار فرزندان آدم ھوں (علی علیہ السلام) سرور عرب ھے”۔
حوالہ :- (مستدرک الحاکم جلد 3 صفحہ 123) *حدیث نمبر :- 8*

“یوم خندق ضربت علی (علیہ السلام ) ثقلین کی عبادت سے افضل ھے “۔
حوالہ :- (مستدرک الحاکم جلد 3 صفحہ 34) *حدیث نمبر : 9 *

“علی (علیہ السلام) کے گھر کے علاوہ مسجد نبوی (ص) کے اندر کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں” ۔
حوالہ :- (مستدرک الحاکم جلد3 صفحہ125) *حدیث نمبر :- 10*

“علی ( علیہ السلام ) مجھ (ص) سے ھے ۔ اور میں (ص) علی (علیہ السلام) سے ھوں”۔
حوالہ جات :- (مسنداحمد ابن حمبل جلد 5 صفحہ 606 ، صحیح ترمذی جلد 13،صفحہ 168) *حدیث نمبر :-11*

لشکر روانہ کرتے وقت فرمایا ، “خدایا مجھے اس وقت تک موت نہ دینا ۔ جب تک علی (علیہ السلام) کو دوبارہ دیکھ نہ لوں ، راوی ام ایمن ” ۔بحوالہ :- (صحیح ترمذی جلد 13صفحہ 178) *حدیث نمبر :- 12*

علی (علیہ السلام ) حق کے ساتھ ھے ۔ اور حق علی ( علیہ السلام ) کے ساتھ ھے ۔ بحوالہ :- (صحیح ترمذی جلد31 صفحہ 166) *حدیث نمبر :- 13*

کسی نے آدم (ع) کا علم ، نوح (ع) کا تقدس ، ابراہیم (ع) کی استقامت ، موسی (ع) کی طاقت ، عیسی (ع) کی عبادت دیکھنی ھو تو علی (علیہ السلام ) کو دیکھے ۔ (کتب اہل سنت) *حدیث نمبر :- 14*

“جس نے علی (علیہ السلام) کو ستایا ، اس نے مجھے ستایا”۔
بحوالہ :- (مسند امام احمد ابن حمبل جلد 4 صفحہ 534) *حدیث نمبر :- 15*

“جس نے علی (علیہ السلام) سے دشمنی کی ، اس نے مجھ (ص) سے دشمنی کی”۔ (مناقب علی ابن ابی طالب صفحہ 192) *حدیث نمبر :- 16*

“اے علی (علیہ السلام ) مومن کے علاوہ کوئی تم سے محبت نہیں کرسکتا ، منافق کے علاوہ کوئی تم سے بغض نہیں رکھ سکتا”۔
بحوالہ :- (صحیح ترمذی جلد 13صفحہ 177) *حدیث نمبر :- 17*

“علی (علیہ السلام ) کی دوستی برائیوں کو یوں کھاتی ھے ۔ جیسے آگ لکڑی کو” ۔ حوالہ :- (کنز العمال جلد11صفحہ 125) *حدیث نمبر :- 18*

“اے علی (علیہ السلام) جو ھماری اطاعت کرے گا ۔ اس نے خدا کی اطاعت کی”، راوی ابوذر غفاری ۔
بحوالہ :- (مستدرک الحاکم جلد 3 صفحہ 123) *حدیث نمبر :- 19*

(میرا پروردگار مجھے رات کو آسمان لے گیا اور علی ( علیہ السلام) کے بارے میں مجھے 3چیزوں کی وحی کی )
“علی (علیہ السلام) پرہیز گاروں کا پیشوا ، مومنین کے ولی ، اور نورانی چہروں کے رہبر ھے”۔
حوالہ :- (مستدرک الحاکم جلد 3 صفحہ 138) *حدیث نمبر :- 20*

میں (ص) علم کا شہر ھوں ۔ اور علی (علیہ السلام) اسکا دروازہ ھے۔
حوالہ جات :-(کنز العمال جلد 13 صفحہ 148 ، مستدرک الحاکم جلد 3 صفحہ 127) *حدیث نمبر :- 21*

مواخات مدینہ ،
“اے علی (علیہ السلام ) تم دنیا آخرت میں میرے بھائی ھو”۔
بحوالہ :- (تاریخ ابن کثیر جلد 3 صفحہ 223) *حدیث نمبر :- 22*

اہل سنت کے مفسّر و امام جلال الدین سیوطی علیہ رحمۃ نے تفسیر در منثور میں درج کیا ھے کہ :
جب قرآن کی یہ آیت آئی کہ :- اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہنچا دیجئے ۔ اپنے رب کی طرف سےجو آپ پہ نازل ھوا ۔ اور آپ نے ایسا نہ کیا ۔ تو یوں سمجھیں کہ رسالت کا کوئی کام نہیں کیا۔۔
(سورہ مائدہ 67) اس آیت کے بعد آخری حج سے واپسی پر خم غدیر کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوا لاکھ صحابہ کرام کے مجمع میں علی (علیہ السلام ) کا ہاتھ بلند کر کے اعلان کیا :-
من کنت مولاہ فہزا علی مولا ۔ “جس جس کا میں مولا، اس اسکا علی (ع) مولا
التماس دعا : بندہ احقر ڑاکٹر رضا حیدر

زار و قطار

فلسفہ:

دل نہ ہو تو آ نسوں مقدر نہیں ہوا کرتے

خوف دشمنی کا نہیں خوف محبت کا ہوا کرتا ہے

بچھڑنا تقدیر ہو تو رونا مقدر میں لکھی تحریر ہوا کرتا ہے

حال دل زباں سے نہیں نظروں سے بیاں کیا جاتا ہے

تڑپ میں جستجو قیدو سلاسل کی مانند ہوا کرتی ہے جو پالینی کی جنگ آزادی کی صورت لڑا کرتی ہے

پیار ہونا تو ایک بہانہ ہے ورنہ سچ تو یہ ہے کہ کسی کہ لیے دل کا دھڑکنا ہی دراصل محبت کا پیمانہ ہے

پیار کسی کی جاگیر نہیں اور نہ ہی کسی کا اختیار ہے

یہ نہ زور ہے نہ زبردستی بلکہ یہ تو زیر ہونے کا نام ہے کسی کو زبر کرکے یوں خد کو پیش کردینے کا نام

اجازت تو وہاں لی جاتی ہے جہاں در حائل ہو جہاں دل مائل ہو وہاں قربت دو دل ایک دھڑکن ہوا کرتی ہے

محبت میں اقرار زبانے دل کو قفل دینے کی مانند ہے یہ اس لیئے کہ دل دھڑکنوں سے اپنے پیار کا حال بیان کرتا ہے ، زبان تو فقط دل کے حال کا احوال بیان کیا کرتی ہے

یہ ضروری نہیں کے حسن کی تعریف کی جائے کیو کے حیاء ، حصول، حثار خد اپنے اختیار کا تعین کیا کرتے ہیں

محبت ہوتی نہیں ، محبت ہوجاتی ہے

نہ یہ جبر ہے نہ یہ استحصال ہے

یہ تو اظہار ہے جو بااختیار ہے مگر لاچار ہے

(ڑاکٹر رضا)

دنیا

ہے تکلف کے تیری بات کی شنوائی ہے

ورنہ کیا چیز تیرے پاس جو رعنائی ہے

تیری نصیحت سے ہمیں سن بے اعتنائی ہے

کیوں کہ دنیا یہ فقط کھیل تماشای ہے

(ڑاکٹر رضا)

شجر

غلاف نور میں پیوستہ اک شجر کی طرح

وجود ایسا کہ ہر زرہ اک نثر کی طرح

ہے گو بشر ہے وہ پر حسن میں ہے ذر کی طرح

سکوت طور میں آ غوش پیامبر کی طرح

ہے نازکی میں کسی شر سے وہ جدا تو نہیں

ہے دور تجھ سے مگر تجھ سے بےوفا تو نہیں

یہ عاشقی میں جو دل ہار جایا کرتے ہیں

سفر تمام ہو ناکام عشق گلا بھی نہی

نظام قدر میں ہر سجدہ گو خدا کے لیے

ہے سجدگاہ رخ آ دم ہے وہ خدا بھی نہیں

(ڑاکٹر رضا)

نیند

تعجب ہے مجھے اس نیند پر جس کی آغوش میں وجود موت سےبھی بے پرواہ ہو جایا کرتا ہے
بس ایسا غافل کے غفلت بھی ایک نعمت کی مانند کے پھر کوئی خوف نیند کے حسین سحر میں شر نہ کر سکے (ڑاکٹر رضا)

Noor

غلاف نور میں پیوستہ اک شجر کی طرح

وجود ایسا کہ ہر زرہ اک نثر کی طرح

ہے گو بشر ہے وہ پر حسن میں ہے ذر کی طرح

سکوت طور میں آ غوش پیامبر کی طرح

ہے نازکی میں کسی شر سے وہ جدا تو نہیں

ہے دور تجھ سے مگر تجھ سے بےوفا تو نہیں

یہ عاشقی میں جو دل ہار جایا کرتے ہیں

سفر تمام ہو ناکام عشق گلا بھی نہی

نظام قدر میں ہر سجدہ گو خدا کے لیے

ہے سجدگاہ رخ آ دم ہے گو خدا بھی نہیں

(ڑاکٹر رضا)

Tareef us Khuda ki jis nay tujhay banaya

وہ جو ابتداء میں پہل ہوئی

تیری یاد میں سحر ہوئی

رہی رات ساری وصال میں

میں پہنچ گیا یوں حصار میں

نہ میں بت پرست نہ میں بت شکن

رہوں تیری یاد میں بس مگن

نہ تو خاک پر یو ں اتارتا

یوں نہ حور کر کے سنوارتا

نہیں پوچھ مجھہ سے یہ حال کیو

تیرا کن ہی اس کا جمال تھا

فیاکن نے کر دیا حال یہ

تیرا کن ھی ایسا کمال تھا

نہیں مانگتا تیرا جاء وجل

عطا کر دے وہ جو خیال تھا
(ڑاکٹر رضا)

Nauroz aur Quran by DrcRaza Haider

نوروز اور قرآن:

ہر آ نے والا دن ایک نعمت اور پروردگار کی رحمت ہے

رحمت وہ احساس ہےجو زندگی کو قیام اور سانسوں کو دوام ریتی ہے

یہی دوام وہ انتظام ہےجو زندگی کی زمانت اور اس کی حفاظت ہے

اس کے برعکس اگر خدا اپنی رحمتوں کو روک کر وہ دن کا آغاز کر دے جس دن آ سمان پھٹ جائے اور زمین ہل جائے تو رحمت پھر زحمت میں بدل جائے

یہی وجہ ہے جو ہر آ نے والی سانس یہ فلسفہ دیتی ہے کے اپنے پروردگار کا شکر کر جس نے تجھے ایک اور موقعہ دیا

قرآن:

قریش کے مانوس کرنے کے سبب (۱) (یعنی) ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب (۲) لوگوں کو چاہیئے کہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر کے مالک کی عبادت کریں (۳) جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا (۴)

سُوۡرَةُ قُرَیش

نوروز بھی ہر آ نے والی سانس کی طرح وہ دن ہے جو تمھیں اپنے پروردگار کی اصل حیثیت کی طرف مائل کرتا ہے

تصادم کا تعلق کیفییت سے ہے اور کیفیت انسان کی اپنی حد, نگاہ

کائنات کی ہر زندہ شے حکم, خداوند کی محتاج ہے اور فلسفہء ہدایت میں کوئ شے بیکار اور بے مصرف نہیں۔
موسم کا بدلنا زندگی کو نیا روپ دینے کی نشانی ہے اور زندگی ایک خالق کی خد دلیل

یہ نہیں ہو سکتا کہ رماغ جس حقیقت کو مانے ،ہدایت اس کا انکار کر دے

آ ئمہ صالحین وہ ہدایت ہیں جو پروردگار کی صرف خوشنودی ہی بیان نہیں کرتے بلکہ ازن,مولا کائنات کو چلانے والے ہی_

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت کے مینھہ کے آگے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ اور ہم آسمان سے پاک (اور نتھرا ہوا) پانی برساتے ہیں (۴۸)

سُوۡرَةُ الفُرقان

اور آسمان سے برکت والا پانی اُتارا اور اس سے باغ وبستان اُگائے اور کھیتی کا اناج (۹)

سُوۡرَةُ قٓ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اُگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہوگئی ہے) پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے (۲۱)

سُوۡرَةُ الزُّمَر

بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں (۱۶۴)

سُوۡرَةُ البَقَرَة

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں (اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اس کے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیر فرمان کیا (۳۲)

سُوۡرَةُ إبراهیم

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے) سوا کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے (۳۰)

سُوۡرَةُ المُلک

یہ اس لئے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اس کو ناپسند کیا تو خدا نے بھی ان کے اعمال اکارت کردیئے (۹)

سُوۡرَةُ محَمَّد

معارفت اور محبت

،ہمارا فرض ہے کہ اپنے دور میں اپنے امام ع کو پہچانیں نہ یہ کہ صرف محبت کریں وہ بھی بغیر معرفت کے، میرا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں محبت پر تنقید و اعتراض کروں کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ جو علی ع کو پہچان جائے اور پھر ان سے محبت نہ کرے، لیکن یہ معرفت کی محبت ایک عظیم روح، ایک باوقار پاک باز شخصیت سے روشناس کرائے گی اور پھر ایسی محبت یقیناً نجات دہندہ بھی ہوسکے گی اور ایسی ہی محبت پورے معاشرے کی روح بن سکے گی نہ وہ محبت جو ورثے میں مل رہی ہے اور جس کے زریعے ہم چند عقیدے بھرے ” شعر ” یا چند عقیدت سے بھرپور جملے ادا کردیا کرتے ہیں، ایسی محبت کا نتیجہ نہیں ہوگا ۔۔۔میرا خیال ہے مولا کائنات بھی اس محبت کو اہمیت نہ دیں گے اور ایسے عشاق کو اپنا نہیں سمجھیں گے،

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مولا کائنات کی محبت آخرت میں شفاعت کے کام آئے گی پر میرا کہنا ہے بنا معرفت والی محبت کبھی کام نہیں آسکتی.❣️

حوالہ : کتاب علی (ع) اور تنہائی

ازقلم | ڈاکٹر علی شریعتی

ازقلم | ڈاکٹررضا حیرر

محبت میں دلیل و معرفت بےمسند وممبر آ شیانہ ہوا کرتا ہے

دل زبان کہ اثر اور سوچ کہ حصار سے آ زاد دھڑکا کرتا ہے

محبت میں دھڑکنے والا دل انجام سے غافل ہوا کرتا ہے

محبت دستخط دے کر دروازہ کھلنے کا انتظار نہیں کیا کرتی یوں محبت میں پیار کہ دریچےفقطا اظہار کہ پھول برسایا کرتے ہیں

مقام عشق میں معارفت قبلہ نہیں ہوا کرتا

جنہیں دکھتا ہے انہیں پیار ہوجایا کرتا ہے

معارفت تو موجود کی منطقی دلیل ہے مولود کی نہیں

یہ اس لیئے کہ مولود دھڑکنوں سے وجود کہ حصار میں وجود کہ اظہار پیار میں اپنا حصار تلاش کرتا ہے

محبت آ گ میں پہلے کودا کرتی ہے یقین کامل بعد میں ہوا کرتا ہے

محبت جسد سے آ زاد، نگاہے یار سے بےپرواہ ، دھڑکنوں کے رواج می، معارفت سے غافل ، انجام سے اندھی ، اور جاء و جلال ملال سے آشنہ ہوتے ہوئے ناآشنا ہوا کرتی ہے یوں طبیعت فقط دھڑکنوں کی طابع ہوا کرتی ہے اور خواہش حصول کے یوں آ نکھیں تلاش میں اور وجود موجود کو آ غوشہ حصار میں یہ فقط اس کہ پیار میں کہیں داستان اور کہیں افسانہ بن کر زینتء کمال عشق بن جایا کرتا ہے

عشق ہر آسمانی ، جسمانی،وجود و خلقتء بشریت سے آ زاد طبعیت رکھتا ہے یوں آ گ میں کود پڑتا ہے اس وقت جب معارفت محوے تماشہ ہو

نساب, عشق میں دھڑکن نظام, قلب لیے

وجود زیر, اثر محو تماشاو جسد و جسد لیے

ہے معارفت سے جدااپنا نظم و ظبط لیے

رواج دید میں آ زار بس اک قلب لیے

نہ پوچھ مجھ سے کہ وہ کون ہے کہاں سے ہے

ہے وہ وجو ،نہ موجود پر وجور لیے

(ڑاکٹر رضا)

منزلِ لا شعور ، شعور سے جدا ہوا کرتا ہے

آ نکھیں مسکن نہیں مسحور کیا کرتی ہیں

دل کے مکین کیفیت, کونومکاں سے آ زاد ہوا کرتے ہیں

جو بستے ہیں وہ برسا نہیں کرتے بلکے عیاں ہوتے ہیں

نفرت اور محبت کبھی زباں سے کہیں دل سے بیاں ہوتے ہیں

رل کیفیت کا نام ہے اور زبان حیثیت کا

دل اثر ہے ،اور زبان مظہر

معارفت فنون ہے، دل جنون ہے

معارفت حصول ہے ،اور دل حلول ہے

معارفت زرہ، اور دل محلول ہے

معارفت طور ہیں، اور دل نور ہے

معارفت محصور ہے ، دل سرور ہے

معارفت عشق ہے اور دل قلب

معارفت ارارا ہے اور دل غافل انجام

معارفت سکون ہے اور دل جنوں میں سکوں

معارفت رسائ ہے اور دل توانائ

معارفت ناخدا ہے اور دل خدائ ہے

معارفت ارتقاء ہے ، دل ازل

معارفت ابتداء ہے دل انتہاء

معارفت اسم ہے ، دل اسم معارفت

معارفت رسم ہے ، دل اسم الٰہی
اک خدا ہے دوسری خدائ

نہی شریک کوئی اس کا ہمشریک مگر

نظام قدر میں ہر شہ صفت قدیر لیے

(ڑاکٹر رضا)

Zeenat

زینت جسم و جاں میں سرور لیے

حسن ایسا کمال حور لیے

یہ جو چہرا مثال نور لیے

ہے فقط بس حصار طور لیے

اک بنا عمل میں یوں پنہا اجر

روسرا خواہشوں کا سور لیے

ہے زمیں پر جو زینت اسباب

حسن خلقت کمال نور لیے

(ڑاکٹر رضا)

Ber dushman e ahle bait Laanat

یہ ضروری تو نہں میں تیری
تا ئید کرو

کچھ تصنیف کرو یا کوئی تالیف کرو

دشمنی گر ہو اگر بعد مخالف کی طرح

ہے یہ کافی تیرے دشمن کی میں تعریف کروں

(ڑاکٹر رضا)

Wahid

مجھ کو باطن سے جدا کرکے یوں ظاھر سے الگ

خد شمارے میں چھپا ہے میرے مولا ایسے

ایک ہندسے سے ہے ظاھر تیری اپنی خلقت

اس گنتی سے جدا ہے مجھے بتلا کیسے

(ڑاکٹر رضا)

The immaculate❤️ wish:

The immaculate❤️ wish:

And there comes a day when Desires were shuttered and passion guttered with eyes folded and visions moulded sight rolled ànd words bold.

Passion graved and and love nailed destiny paved with indemnity unsaved living caved and person enclaved.

One shall never deßire for de$ire shall never fulfil.

Beauty remains masked & hope envisaged.

This is the day when ego shall raise or the passion shall waste.

Purity in passion must have casted shadow or the silhouette shall lost in meadow.

Save soul not body or the same shall veil and the body shall kneel though remains the diamond gold and steel but no one to deal.

Never let the one to go away just for fun remember none! (Dr Raza)

DIL

کیفیات ❤️ دل کا جنبش زباں سے کوئی تعلق نہی ہوا کرتا

یوں خاموشی کبھی ارادے نہی ظاھر کیا کرتی

جن کو آ نکھیں پڑھنے کی عادت ہوا کرتی ہے وہ ❤️رھڑکن سن ہی لیا کرتے ہیں

چہروں کہ آ ثار دل کا غبار دکھا دیا کرتے ہیں

سوچو کے مدار میں ہاتھ قلم سے آ نکھیں نم کریتا ہے اور دل❤️ غم سے ❤️ دل دھڑکنے کی سمت بیان کر دیا کر تا ہے

چوٹ دل پر لگا کرتی ہے جسم کی تکلیف تو ❤️ دل کے دھڑکتے رہنے کا فدیہ ادا کرتی ہے

خوبصورتی اگر چہرے رنگت ہاتھ پاؤں کا نام ہوتا تو راتیں کبھی حسین ❤️نہ ہوتیں

محبت ❤️میں صبح زندگی اور شام بندگی ہوا کرتی ہے یوں رات انتظار یار یو ایک بار پھر صبح کا ا نتظار

پیار کا اظہار تو فقط اک شاعرانہ طرز ہے حال ❤️دل بیان کرنے کا

آ نکھیں عشق کا اظہار تلاش سے کیا کرتیں ہیں

پیار میں دل ❤️ نہیں دماغ آلودہ ہوا کرتا ہے

دل ❤️نفس سے بے پرواہ ہوا کرتا ہے
اور نفس صبر میں آ زمودہ اور خواہشات کہ اثر میں
بیہودہ ہوا کرتا ہے

محبت کا اظہار زبان اور اقرار خاموشی ہے

دل❤️ ایک ایسا مسکن ہے جہاں محبت اور نفرت کی جگہ ہمیشہ پای جاتی ہے

(ڑاکٹر رضا)

Nuqta

رحیم بن گیا نقطے سے رجیم

ایک نقطے نے بنایا تجھے کس طرح لئین

گر نہ ہو علم تجھے غیب کا اے طالبعلم

سجدا زر ہو کہ یہی بات سکھاتا ہے حلم

ہے تجھے ناز کیو خلقت پہ ہے خالق پہ نہی

بندہ پرور کو سکھاتا ہے یہی بات علم

سجدہ خالق کو نہی سجدہ اطاعت کو ہے

اب کیا بات ہے لکھ چھوڈا ہے قرآنِ کریم

پیروی دین میں بندو کی ہے کتاب نہی

پہلے اترے تھے یہاں لوگ، کوئی کتاب نہی

(ڑاکٹر رضا)

$hadeß of 🌈

ẞhades of rainbow …

In the middle of night…

over the darken sky filled with pearly drops of rain….

What one can desire … Just little more than fire…

A sign of godessess with a throne of love…

A mood full of passion …

a passion full of lust …

Impression of flirt with a session of hurt …

Just unmatchable being where desire is always seen as mean …..

Though i want her but my efforts are wean.

Thief of ❤️

❤️Majestic , cute and celebritious…

❤️ freßh and frozen without a fictitious flexor line …

A natural shore of elegance with warm cleft of built-in cliff….❤️.

❤️A ray of light that delights sight…..

❤️ An arrogance that demands respect and respect that exhibits arrogance…..

❤️A fragrance dipped sillhoute of freshly torn roßes that magnetically create plethoras over the buccal pads….

A clopetric view whenever reviewed with a glittering eyes and bridging nostrils….❤️

A complete women where fall is a certain and beat is worthin…..❤️

❤️ a plateau where Heart always rest and soul relax….

Undoubtedly a gift of God.❤️

The God & godesess

👆👆

💕Masha Allah, clean, cute, Majestic & Magnificent. 💜

🌹A scented sweet with an elegant grandeur that stupify for sure .

💐An untouchable slippery soul and body that justifies itself proudly.

🌜A glimpse that charge rudeness and a sack that codons spectator in shack & shackle.

⚡A poison that heals and healing that is feel so to kneel🙇🏽 before the soul as god of passion and goddesses of Love.

You are simply beautiful.

Accept my gratitude Plz .

Death

2 February, 2017
11:03

Defining Death!

Death is a sequence of events eventually culminating into failure to thrive and survive .

A disturbance of fulcrum between life as drive and revive .

It is a failure to strive over strike.

It is an inability to escape therefore being safe.

It is an action of reaction as opposite and in different direction.

It is a silence just behind noise that cordon the sight in scene making ones focus in realm of imagination in dream as escape to phenomenon as been seen.

It is an impact that we can not expect but had to respect .

It is a pact of analytic strategic tact that becomes enact as act thrashing life from new phase of dimension in to new dimension already mention as life after death.

It is a phasic distribution after tragic dilution that forms new solution of life as life after death.

Death is just like life with different dimension and in indifferent dimension though seen before death as apprehension .(Dr Raza)

Lady in black

Word 🙏🏻of thought

Keep yourself🙋‍♂ above all u see in and around .

Nothing is precious🎗️ than what you think about yourself.

Not many peoples adore people but less often🙄 and never when one is looking magnificient👌🏻.

Here is a difference between praising and adorableness.

Praising is like prayers🕌 and prayer is when u believe someone as god or goddesses.

Adoring is an influence of sight as a one time sight as if sighting🌜 a first moon for a second and then as a blue moon and not in blues🌛

I am the one bowing🙇 in front of u as praising believing you as one fine art of Allah as goddess among one of his beautiful creation that mesmerises⚡ and glamourise the worthy and weighty art of Almighty.

Please accept my regards💜 on your charismatic💕 charisma.

Taqdeer

تیرے ہر زور پہ جو زیر و ذبر دکھتا ہے
یہ جو قوت میں تیری میرا اثر دکھتا ہے

ہر گھڑی جو بھی تھی گزری تیری تقدیر سے کی

جو بھی تائید تیری کی فقط تدبیر سے کی

(ڑاکٹر رضا)

گناہگار

دراصل گناہگار اپنے گناہ کو لیے خدا کے وجود سے انکار پر دلالت کیا کرتا ہے یوں خدا کا منکر ہوا کرتا ہے ہر سزاوجزا سے گویا خدا کی موجودگی کا

(ڑاکٹر رضا)

یوسف

قیدخانہ سے نکالو میں پڑا ہوں کب سے

زکر کرنا اے میرے دوست تو اپنے رب سے

اہل دربار مجھے خواب کی تعبیر تو دو

اک کھٹن وقت پڈا ہے کوئی تدبیر تو دو

ہے پریشان سا یہ خواب نہی جانتے ہم

کیوں نہیں کوئی یوں یوسف کی طرح خواب شکن

(ڑاکٹر رضا)

علی

گر مصیبت ہو تو میزان بڑھا دیتا ہے

صبر ہر درد کو آسان بنا دیتا ہے

(ڈاکٹر رضا)

نام حیدر کیفیت میں گر ہو نسبت کا سرور

سوچتا ہےکیا امر الہام کی مانند نزول

ہر قدم ہے فیصلہ اب امر کہ طابع لیۓ

بیچ دینا نفس مومن کی روایت ہے اصول

(ڈاکٹر رضا)

Jism e natawan

ہے غزا بھوک لئے جسم ناتواں کے لئے

ہے جڈا رزق فقط تیری ہی بقاء کے لئے

ہم نے ہر نفس جدا کر دیا نزاع کہ لئے

ورنہ کیا چیز ضرورت میری عطا کے لئے

(ڑاکٹر رضا)

Ya Rasool allah PBUH

تیرے مزاج میں ہر کیفیت الہام لئے

عجب ہے روپ ملائک ملک ہے نام لئے

بشر کے شر سے جدا گو بشر بغیر شر

,ہے کیا وجود کہ موجود اک نظام لئے

خدارا کچھ تو بتا کیا تیری رضا اس میں

اتارتا ہے جسے وہ تیرا ہی کام لئے

یہ جو نصاب عقیدت یے امتزاج لیئے

ہے کائنات کا اک رنگ سوز و ساز لئے

(ڑاکٹر رضا)

Roop

Jahan roop husn ki soorat hisaar ki haysiat laylay …………..wahan roop bhari aur kayfiat tari hojaya kerty hai

Jahan Zuban kalaam say hut ker ilhaam say jurr jaa-aye …………whan zuban ilhaam ko leay kayfiat mein dhul jaya kerty hai…………. Aisay kay shaoor per la-shaoori kayfiat tari hojaya kerty hai

Bus aisee zuban joe shaoor mein bhee La-shaoor say jurr ja-aey …………faqat wahee ka aser rukhtee hai…… aur yoon who zuban ………….ilhaam say jurray kalaam ki haysiat ki manind

Jahan tajullee he roop ki soorat her shey per muqadaam ho wahan zuban khamosh aur paygham faqat muhabbat hua kerta hai ……..aisay kay sajda leay …sajid ki soorat …..muwaddat leay ibadat

Uss husn ki kia tareef kee jai jis ka khaliq hee haseeno kay husn kay peechay khaliq ki soorat asal Malik ho

Such toe yeh hai k hum zuban ko akser upney khamoshi say chahat ka paygham ………Upney muhabbat ki soorat………khamosh rehnay say dea kertay hai…… aisay kay piar ka Iqrar (Dr Raza)

Mairay Yaar

نہ دہراۓ کیے جاؤکہ چھپ جاۓ مگر

خوب واقف ہے پیامبر تیرے سینے میں ہے کیا

موت آتی ہے کبھی غار میں بھی یار لۓ

ہا کبھی قلم لۓ کاغذو اعتبار لۓ

نہ بتا ؤ مجھے ہے کون کہا سے وارد

ایک مرحب نے بتا چھوڑا کیا شاہکار لیۓ

دین لاۓ تھے مسلمان ہی اسلام لۓ

جو بھی داخل ہوا کافر تھا نہ ایمان لۓ

جن کی مدحت میں مرے جاتے ھو ایمان لۓ

نسل در نسل رہے کفر صبح شام لۓ

(ڑاکٹر رضا)

منتظر

عجب ہے پیار کہ ہر گھر ہے منتظر تیرا

حصارِ پیار میں ہرپل ہے منتظر تیرا

ہے انتظار مجھے تم بھی انتظار کرو

گو دربدر ہیں سبھی در ہے منتظر تیرا

(ڑاکٹر رضا)

Nizam

نظامِ حشر میں ہر شہ کوئ نصاب لیے

نہ جسد کوئ مگر نفس ہر کتاب لیے

میں گو بے راہ مگر منکرے خدا تو نہیں

جہد میں لمحہ میرا ہر ہے جستجو لیے

(ڑاکٹر رضا)

Khuda

کس سے منسوب ہے کس در سے ہےنسبت تیری
اس کو اک سمت بتا جس کو ضرورت تیری
میں دعا مانگ رہا ہوں تجھے موجود لیے
اے فقت نور دکھا سمت ضرورت تیری
( ڑاکٹر رضا)

karabal e mauch

خون سے خون میں فطرت کا ہے آتا ہی اثر

ہم نےمقتل سے چلو جوڈ لیا ناطہ مگر

کربلا شام و سحر اپنا لبادا ہے ضرور

تیرے اجداد کا ہے کھولدیا کھاتہ مگر

(ڑاکٹر رضا)

فتنہ

فتنہ دراصل ان حالات اور واقعات سے جڑا عمل ہے جسکا اثر مخصوص لوگوں تک محدود نہ ہو بلکہ اثرات گناہگار سے بیگناہ تک شامت, حال بن جأۓ
(ڑاکٹر رضا)

لافانی

کہیں پہ پہل ہو کیو کر کہیں پہ ھو ثانی
کوئ تو بات بتاو کہ ھے پریشانی

لگا کے آگ پکارے ھو ہے کہاں پانی
ہے جان عشق میں کوئ کہیں پہ ھے جانی

کہیں پہ فاقہ فقط اور کہیں فراوانی
مرے نصاب میں ھر چیز ہے یہاں فانی

بشر کی نظر میں ہم بھی یہاں پہ ربانی
بچا ہے کون یہاں اک خدا ہے لافانی

(ڑاکٹر رضا)

مومن مانند کافر

جنوں میں ڑوبے ہوئے پاسبانے شر وبشر

بتا رہے ہیں کہ دینِ خدا میں کیا کجھ ہے

کہیں پہ گردنِ شبیر پر چھرے کی طرح

کہیں پہ لاش ہے بیگور وسوز و ماتم ہے

عجب محال کہ سنت بھی اک وبال یہاں

کہ اب تو حال کہ شریعت بھی اک تصادم ہے

خدا کہ دین کو اس طرح استعمال کیا

کہ اب کتاب میں مومن بہی ایک کافر ہے

ڑاکٹر رضا

قیمت

ہمارے شھر میں قیمت ھمارے سر کی لگی

لگی جو آگ تو ھر بار ھمارے گھر میں لگی

اٹھا کہ سر سرِنیژا لگا کہ آگ بشر

لگا رھیں ھیں وہ قیمت کچہھ اسطرح سے میری

ڈاکٹر رضا حیدر

نماز

نماز عشق میں سجدے شمار کر نہ سکے

تھے ساتھ ساتھ مگر پھر بھی ان پہ مر نہ سکے

بہت تھے کام سفر میں مگر وھ کر نہ سکے

وھ گھر پہ آئے مگر اہتمام کر نہ سکے

تھی مشق ساتھ لب دریہ تھا سامنے پانی

کٹا کہ ہاتھ بھی اے آب تجھ کو بھر نہ سکے

عجب سا شور بپا ساحل فرات پہ یوں

تھے بس قریب مگر کچھ بھی ہم کر نہ سکے

نہ تھا موجود نہ وجود اس کہانی میں

مگر وفا کو لئے باوفا نہ بن نہ سکے

ڑاکٹر رضا

Sureh Ale Imran

3.153 ال- عمران (علامہ مودودی)

حصار ہوش میں بیہوش بھاگتے ہی رہے

پکارتا وہ ر ہا اور وہ بھاگتے ہی رہے

پلٹ کے دیکھ کے تجھ کو پکارتا ہے نبی

نثار جا سے جدا ہوکے بھاگتے ہی رہے

روش تھی خوب تیری ، جانثار خود کو کہے

مگر تھا خوف کے شب بھر وہ جاگتے ہی رہے

خدایا کچھ تو بتا کو ن اس روش کے پلے

صفر کھٹن ہے بھگوڑے نہ میرے سات چلیں

میں کس طرح سے بتا تُجھ کو ان صفوں میں رکھو

مجھے ہے خوف کے پھر سے نہ تو یوں بھاگ پڑے

ہمیں خبر ہے تم اجداد کی روش پے چلے

یہی وجہ ہے کے ہر جنگ میں یوں بھاگ پڑے

(بندہ – علی)

Tafseeri Translation qurani ayat ..in poetic verse and stanza

Liput he jai ga sooraj bhee aur sitaray bhee

Jibaal upnee hee chalo pey jub chulain gay khudhi

K jub samait leaye jain gay wahoosh o hashar

Bharak perray ga Samander ajab hee khoaf say jub

Da-huktee aag jehunum ka paish khaima jub

Fisher e aag mein us nufs ka safeena leeay

Toe tuu tehr k ubhee bus tera hisaab hua

Yeh Jan o jism ka kuch dair mein nisaab hua

Bata qasoor k kio ker rawa kia tha jurm

Tha kia qasoor joe mara unhain khata o situm

Kio baykhata unhain madfoon is situm say kia

Zara si dair kio aya na yeh khayal tujhay

K ikk kitaab abhi hai tera hisab leay

Hata dea hai yeh perda k dekh lay tu samaa

Lay qurb mein hai woh firdous joe buseee thee kaheen

Lay ub to bol k laya hai kia yaha k leaaey

Nahee jo kuch bhee teray haath mein shifaut ko

Yaha bhee teray leay kuch nahee hai Rahat ka

K kha raha hoo qasam mein bbee un sitaro ki

Woh teergi mein chuphay subho k nazaron ki

K yeh kalam her ikk soe faqat rasool ka qol

Karim aisa tawana bulund Muraatib mein

K her hokum mein chupha iktiyar e noor e nazar

Joe hai qadeer bhee qadir bhe amr o hakim bhee

Suno hai kufr ki daldal mein doobtay chehro

Nahee rafeeq yeh majnoo koi bukheel nahee

Hai door sher ho ya shaitan is ki manzil say

Na qol e sher mein hai doobi huee zuban e amar

Toe phir batao k kio ker kaheen bhutuktey ho

K kia wajah hai joe tum zikr mein utuktey ho

K hai yeh zikr faqt raasti ki raah ko leeay

K raastay hai yeh ghalib aser khuda ko leay

Na zor upna chulao k kuch nahee hota

Khuda jo saath to kho ker bhee kuch nahee khota (Dr Raza)

زہرِ قاتل

نہی ہے آپ کے بس کی محبت میّسر جو، زہر دے ڈالئیے اب
ڈاکٹررضا**********************
ہے خود ھی زہرِ قاتل یہ محبت نھی اب زہر کی مجھ کو ضرورت
ڈاکٹررضا

Covid -19 management, a deviated rationale in treatment and professional practice, By Capt ® Dr Raza Haider

Deviation from rational and ethical mode of treatment has crossed the road of ancillary management in Covid -19 like a cause way, shattering its paved route of management in to multifaceted and multi-fate disease with variant morbidity and mortality ratio.

Never has been this was a
precedent earlier in which, modalities and options of treatment was a standardized operative procedure and yes same in prescription also where regimen was a protocol that was still under direct discreatory power of the clinician to finally decide what not be prescribed.

It is less of a Covid -2 virus and its virulence propensity that is taking the spike of death ratio but definitely a wrong precedent of dictated methodology of designed prescribed structural WHO treatment that is snatching love one from lovers.

What for God sake on earth has arrived that has uncontrolled milieu to the extent that even the best on earth as human race altogether gone in to compulsive submission as failure in spite of God’s best given abilities in front of just a virus?.

This is because a ridiculous unprecedented scoop of rationale of treatment being put as command by few of the backbenchers to the many on front desk to execute, institute and implement what is being put in the name of management protocol by the so called non professional functionary elites of the globe working in herd and under umbrella of WHO.

To the mount of belief and faith a very unnatural submission of doctors in front of newly define modalities of un-text and syllabi treatment is again a cause of massive death rate.

Out of my decades of professional practice never in my life have seen such stringent, sting, strict and sculptured directive dictation in treatment and options to the last as death but the only where disease as irreversible which could not succumb but to be put on machine as support.

On the contrary, as of today; there comes a disease whose only option after its contract is a machine from where no one returns as killing machine, the Ventilator.

I am astonished over the class of professional intellects as clinician whom has given up their skilled maneuvering excellence in front of fear and fright thereby reluctantly escaped leaving patient on the fate and fatality of good luck and fortune thus handing over their expertise and skilled intellect over and to a ventilator.

So the ultimate decision to the last as still to come opinion in the hand of a seasoned and polish clinician whom once fight till last with its immense skill, never take its flight to fight that will sooner land with patient survival.

Here is the reason why the masses have irrevocably run away from the hospital thereby discarding once a god on earth as clinician.

Is in it strange that cascade of events that is brought about in any fatal or grave disease, to the extent of reversible or irreversible stage, has a declared texted eventual outcome and fatality and symptoms comprehensively written and teach in thereof books have always the counter influence of added written texted management and methodology.

However since the starting day of the pandemic we do not see such hard hitting skilled retaliation stance from the clinicians that was previously used to get patient out of irreversible agony hence not a single institution of trial or regimen based patient revitalization could be seen that could revert fate with fight but, a horny fate of cruel ventilatory death.

Once any disease may it be fatal to any gravity was a mere challenge in front of doctors yet strangely things have now been upside down and it seems clear that fear has taken flee to flight than fight.

In my opinion a non statistical early endemic data being collected is put as guardian angel and the next modality of treatment as further management is assigned as protocol to be followed by whole world till further and next order of the day.

Here lies the reason of exemplary deaths in COVID-19 which are actually not treated but managed as per untested dictated protocol of WHO that has always changing minutes without penalizing and penalty to the disease but standardized dictated protocol as if an auto drag down procedures that ought to be followed without ifs and buts.

In my opinion modalities in treatment of Covid -19 should be renewed and revived as was previously treated with response to cascade of symptoms for there is nothing that is a new concept in management which is tearing and torturing human body vide ventilator.

Cytokine storm or secondary DIC (Disseminated intravascular coagulation or viral replication and infectivity all and must be an “over the counter” subject for doctors and as such treatment to shortness of breath to other fever, cough and Myalgia shall all have to be treated as was previously being treated in other respiratory ailments by steroids or antihistaminic or vasodilators at least as a first line trial regimen.

But nevertheless the same never turned up as rational rather concealed myth of treatment with dictative primary methodology of WHO deliberate policy.

Ventilators do not need medicine if you don’t prescribe.

Patient will continue to live like a dead man lying.

Let him stay for year or 8 years.

How come the last option became the first whereas what remained forerunners as wonder drugs and procedure were put aside in the name of pandemic disease with perhaps no treatment?

What is this term being used as no treatment when the cascade of event has eventual symptoms already known to clinician as well as prescibed by books therefore to turn andbtopple with treatment.

The decision to begin mechanical ventilation should start with a mode that should presume a conditional requirement as to what sort of ventilation shall be the necessary need of patient among assisted or controlled.

We must understand Mechanical ventilation cannot control disease process which needs to be corrected as such and as per prescribed text.

This intervention is a critical mode of treatment which has its own backfire as backlash.

In my opinion mechanical ventilation is only indicated when spontaneous ventilation is inadequate to engrave life hence to safe guard as prophylaxis before impending collapse of respiratory or physiological functions.

Although we all understand the myth behind falling oxygen saturation and necessity in relation to it, yet the reality is to cage and corner over gauge that machine has its predominant function that will cast and cost as ultimate loss .(Dr Raza)

Aurat, Merd aur Mehbooba

غلط…… بیوی ضرورت نھی، چاھت ھوا کرتی ھے جو دل کی مانند انسانی دلھڑکنوں کی صورت زندگی کی ضرورت

یھی ضرورت نسل کی ضمانت اور یھی حلالی ھونے کی شرط

محبوبہ اک ضرورت پر مبنی رشتہ ھوا کرتا ھے جو بلآخر ٹوٹ جایا کرتا ھے ضرورت پوری ھونے پر یا ضرورت پوری نہ ھونے پر

انسانی زندگی کی تکمیل وفاداری پر ھوا کرتی ھے اور وفادار عورت کی تصویر میں بیوی ھوا کرتی ھے

محبوبہ تو راستے کی وہ گرد ھے جو سفر میں آلودگی کی مانند فقط راستے کی ضرورت جس کی پہنچ کبھی منزل پر نھی ھوا کرتی اگر دائرہ نکاح سے منسلک نہ ھو
(ڈاکٹر رضا)

فطرت

فطرت سے ہٹ کر فقط قدرت ہوا کرتی ھے اور قدرت معجزات کے اثر میں ہوا کرتی ھے. انبیاء آئمہ پر لازم ھے کہ وہ قدرت کے اثر سے باہر شخصیات کے اثر پر اور فطرت پر قدرت سے باہر کیفیتِ صبر پر بشر کی اہمیت اور منزلت دکھائے دعا کے اثر میں نہ کہ معجزات کے سحر میں

ڈاکٹررضا

Hospital Precautions and standing operative procedures during attending patient in various presentations during Covid -19 pandemic by Capt(R) Dr Raza Haider

08 June 2020
14:47Hospital Precautions and standing operative procedures during attending patient in various presentations during Covid -19 pandemic:Wards SOP’s:• All patients attending hospital shall be considered as Covid (+ Ive) unless and otherwise proven.
• Any admission with respiratory sign and symptoms or fever of unknown origin should be kept separately from patients that are admitted for relatively other problems.
• Be vigilant, cautious and conscious and report any remarkable symptom immediately to the concerned specialist.
• Any investigation or lab requirement pertaining to bed ridden patient shall be taken or done in full SOPs within ward by maintaining minimal physical contact and preferably distancing.
• Clinician shall follow same SOPs while attending patient and under no means will attend ward without recommended stocks and gloves.
• Beds should be at a distance of 8 to 10 feet.
• There should be a curtain between beds preferably.
• There will be no attendant except when called upon in need or as necessitate.
• If patient is oriented in time and space without respiratory problem, he or she shall wear Mask.
• Any one; Ward in & ward out, shall wash hand or use sanitizer before entering or leaving.
• All ward staff on duty should not leave there place of duty unreasonably and such move as to and fro shall be restricted guarding SOP’s.
• Rest room wash room utilized by patient should be washed frequently with disinfection spray as and when required.
• All wards will be disinfected as per SOP daily or twice whatever necessitates.
• Nursing Staff should wear face visor before attending any patient where as in the mean hours should wear disposable apron or washable gowns.
• Proper gloving be ensured and surgical gloves should be worn during duty hours whereas added polythene disposable gloves shall be used during attending patient.
• A fresh polythene glove shall be used for attending each patient.
• No attendant shall get access in ward unless under possession of relevant mandatory recommendations as Mask etc.
• No children below 12 years are allowed in hospital and the same goes for wards. However patients as and with such ages are exempted with strict abidance as per SOP.
• No aerosol procedure like nebulisation etc will be conducted in ward but at solitary room with preferably negative pressure.
• Air conditioning system with their filter grill should be wash & disinfected daily and necessary precautionary majors be taken to avoid any contaminated spread due to cooling system.
• All disposal infectious or non infectious should be disposed as if infectious disposal and precautions to be taken for proper discard by incineration.
• All donning and doffing procedure related to wearing as mask gloves or apron or visor shall be followed by SOPS for proper disinfection and reuse.
• Relevant info regarding update and review of SOPs will be put forth as and when and time to time.
• There will be an extra Covid charges to be charged from the patient as mandatory with in hospital charges as obligatory .ERE SOPs:• All patient attending ERE will be examined under strict protocol and as per recommended SOPs.
• Reporting in ERE will be through the preliminary level 3 safety station .
• If the provisional diagnosis at triage level 3 safety station is of fever or respiratory complain patient will be refered to Fever Clinic @ level 4 Safety Station (ERE) as suspected Covid -19ERE will have , Level 4 Safety Station
Here basic concerned is again suspected covid triage through symptoms and finding.• Triage for suspected Covid -19 at fever /respiratory/other clinic1. Fever evaluation clinic
Check for fever >38 Degree2. Respiratory evaluation clinicCough shortness of breath (etc)3. GIT ,CNS or others Symptoms• Vomiting, Loose motions, cerebral issues• If symptoms suggest provisional Covid -19 diagnosis as positive (suspect)
• Hold patient at Isolation Bay at EREProtocol at Bay• Separate from the rest of the patient• Detain /hold patient temp at Holding Bay• If test available at HC Facility Perform Covid testing/ Lab• If not refer to HC facilty for Covd -19 testingBay Environ Requirements• Single room with negative pressure.
(Negative pressure prevents airborne diseases like TB and Flu from escaping from room and infecting others . This is perform by a Machine that pulls air in to the room and filters it before moving out.A positive air pressure is used when patient has a weakened immunity in which a clean filtered air is constantly pumped in to keep contagious disease out of room.)• Ensure healthcare personnel (HCP) caring for the patient adhere to Standard, Contact, and Droplet Precautions• Only essential HCP with designated roles should enter the room and wear appropriate personal protective equipment.2. If symptoms suggest provisional Covid -19 diagnosis as Negative(asymptomatic)• Issue provisional clearance slip for OPD for further referral to OPD / ERE (non traumatic emergency cases only)OPD SOPs:• Clinician will wear mask, face visor gloves and shall be in possession of alcohol base sanitizers.
• All patients and their attendant shall wear mask and gloves and must maintain a distance of 01 meter.
• OPD reception should have through and through glass or plastic shield at reception to avoid close contact and exposure to reception staff.
• There will be fewer OPDs at a time and in a day.
• There will be minimum number of patient in OPDS to avoid rush hence to maintain proper social distancing etc.
• There will be an extra Covid charges to be charged from the patient as mandatory.
• All admission /investigation and laboratory test shall be with in compliance of SOPs
• Admission for surgeries shall have necessary Covid testing as mandatory or will not be entertained.
• All clinician shall be in possession of their relevant Mask /Visor / gloves /sanitizer at their own or the same can be provided by hospital at minimum charges.
• However disinfection and necessary related cleansing will be at the disposal of hospital.Lab SOP’s:• All staff will wear gloves gown, mask and visor with preferably PPE if available.
• There will be one patient at a time in laboratory with rest in waiting area under compliance of SOP.
• Reception should have through and through glass or plastic shield at reception to avoid close contact and exposure to reception staff.
• All waste and disposal should be treated as if biosafety level 3 labs.
• All donning and doffing procedure related to wearing as mask gloves or apron or visor shall be followed by SOPS for proper disinfection and reuse if washable.
• Relevant info regarding update and review of SOPs will be put forth as and per time to time.Radiography SOPs:• All staff will wear gloves gown, mask and visor with preferably PPE if available.
• There will be one patient at a time in Radiology with rest in waiting area under compliance of SOP.
• Reception should have through and through glass or plastic shield at reception to avoid close contact and exposure to reception staff.
• Staff should practice social distance avoiding unnecessary close contact.
• Relevant info regarding update and review of SOPs will be put forth as and when and time to time.
• Reception should have through and through glass or plastic shield at reception to avoid close contact and exposure to reception staff.
• Any surface that shall have direct contact with machine or couch shall be disinfected before new matchable patient.
• Relevant info regarding update and review of SOPs will be put forth as and when and time to time.Operation theatre SOP:• Surgeries shall have necessary Covid testing as mandatory or will not be entertained.
• Emergency surgeries that has limited time span shall be considered as Covid positive and all SOP’S with pre and post surgical intervention will be carried out accordingly and as per Covid SOPs.
• All C-Sections /Labor and NVD deliveries will get through Covid testing prior to attending hospital as mandatory.
• It will be customary to wear mask, gown and gloves by all staff attending OT.
• Anesthetist is the prime contact that is vibrantly exposed to the threat where as the next on threat are surgeon and assistant on table.
• Anesthetist should ideally be in PPE and should follow protocol with heart and spirit.
• Since intubation and further anesthesia is an effective aerosol procedure any such threat can only be minimized by taking care.
• Disinfection of O.T, collection of histopathology and disposal of waste should be practiced as per SOP and in strict compliance.
• All instrument used be sterilized with standard solutions and methodology.Minor OT:• All protocol relevant to standard recommendation will be followed.
• Waste bandages and swab will be discarded as per SOPDialysis SOP:• It is a very difficult situation for dialysis department since many patients are chronic and undergoes twice or thrice dialysis weekly
• As such it is difficult to conduct Covid testing test every time and now and then.
• Such patient otherwise needs to be treated without undergoing test and the risk to exposure increases many fold.
• It is therefore suggested that any new comer should go for Covid testing before he comes for dialysis and all individuals who are on weekly treatment as chronic shall get a monthly testing.
• Mean while dialysis machine should be cleaned with full disinfectiing meathod as per SOP after each dialysis as if virtually Covid patient has been put on.
• All staff members should ideally be under PPE or at least washable gown and disposable gloves and mask.
• Hand sanitizers should be a regular practice and disinfection after every case is a must.
• No touch technique should be executed and attendant along shall stay out with mask and gloves.
• By now extra charges in the name of Covid changes are applicable that should be the part of treatment.ICU Protocol:• ICU will be treated a Covid Wing.
• Every one while working in ICU whether as a Covid Wing or not shall be under strict precaution with PPE or to the utmost full sleeves gown gloves face visor, shoes and cap.
• All disposal as waste will be treated as infectious and disposed as infectious item.
• Donning and doffing of kit will be conducted as per SOP.
• All beds shall be at a recommended distances with shielding effect by curtain or stand.
• Any aerosol procedures being done should be cautiously performed after taking necessary precautionary measures.
• Suction intubation, bedding, shedding cleansing & changing must all go through strict compliance of declared SOP.
• Relevant info regarding update and review of SOPs will be put forth as and per time to time.
(Dr Raza)

Ibadat

07 June 2020
12:56

Insaan firt-e-jazbaat mein kayfiat izhaar ko leay koi na koi wajood talash kia kerta hai taskeen-e -dil ko leay .

Yahee waja hai jo wajood ki ghair mougoodgi mein wajood say jurre her shey ko ishq- e -bayqarar ki manind dhoonda kerta hai

Meri nazar mein ibadat k taqaxo mein ahtaraam aur mohtaram aqeedato say jurre ghair-e-insaan wajood ya moujood ashiya joe bayherhaal her mazhab, deen aur aqaid mein kisi na kisi soorat pai jati hain woh bilashuba mazil -e- ibadat per wajood -e-mehboob say berter nahee hua kerty magar kumter bhe nahee hua kerty.

Yeh is leay k izzat aur maqam yuksaa’ na hon to ahtaram aur adab e ahtaram furqan- e- adalat per nahee bulkay bugz -o – adawat per mubnee hua kerta hai

Ajab nahee k devi mandiro say juree aqeedat mazar, mehrab- o- mimber say paywusta sajood, ibadat ko leay Kaabay aur hajr-easwad k putharo say aqeedat yoon khaak ko leeay karbala -e-muallah say ishq bayher haal aqeedato ka woh anser hai joe insaan ko wajood- e- khulq mein zahirun abdd ka rutba ata kerta hai joe upnay ikhtiyar k bawajood khud ko kisi zaat k agey sajood mein bayikhtiyar samjhta hai goya ghayb mein bhee wajood ko upnay say berter dekha kerta hai .

Such to yeh hai k insani sajood ki dastan asman say zameen tak kisi na kisi deo malai guman- o -haqeeqat say juree hai

Yeh bhee sach hai k ibadat k her taqazay upnee irtiqa say aik ibtida leeay hain yoon her ibtida uss nafs k sajood say juree jisay quran nay upnay raastay ka rehnuma bataya aisay k

“Humay un k raastay chula”

Meri nazar mein her ibadat mein mushghool paraatna, dua,rakoo, qayam aur sajood say jurray upnay treeqo aur saleeqo per som o salat ko leeay kisi bhe mazhab o deen k payrokaar joe bayher haal upne upnee reet riwayt aur dastoori ibadaat k taqazo per amal payra hai bilashuba aik zaat- e- wahid per wajood ki soorat sajda ker rahey hain

Yahee woh manzil hai jahan talash kubhi puther ki moorti per bhagwan ki soorat sajdegah talash kerty hai ya kubhi munjanib puther upna qibla.

Werna such to yeh hai k moortee ko banay wala bhee insaa aur Kaabay ki tasweer say tabeer denay wala bhee insaan.

Meri nazar mein saancho say tayyar putharao mein Khuda tatolnay walay itnay hee bayrukh-o-rah hai jitna ik moorty mein Khuda talash kernay wala

Yeh is leeay k haath say tarasha butt ho ya deewar bilashuba wajood ka naimul badal nahee hua kerta.

Ub rahee baat yeh k phir kaha uss ko talash kero joe wajood mein moujood magar wajood ki soorat moujood nahee goya zaat ki soorat mojood magar wajood ki soorat naa-payd

تلاشِ یار میں کِس طرح رُخ تلاش کروں

ہر ایک راہ پہ منزل کا اختتام ہی عبد

ھے سجدہ گاہ میری آدم تو آسمان سے ھے

میں کس طرح سے خدا کو بتا تلاش کروں

ڈاکٹررضا

Bus yahee falsafa tha Quran ka asman per k

“adam ko sajda kero”

Aur yahee falsafa deen – e- ibrahimi ki irtiqa ka jis ki ibtida chand sooraj sitary say hoti hua min janib wahdaho markooz rahee aisay k ibrahim k sawalo mein chuphe haqeeqat jisay quran nay ayato k anmol heero mein badal dea k

“Akhir tum boltay kio nahee, kuch khatay kio nahee, ”

Bus yahee falsafa- e- ziarat- o- hajj o umra hai k tum per wajib hai k uss ghar ki ziarat kero jis ko Khuda nay upna ghar tehraya aur woh Ghar derasl Muhammed -o -aley muhammed SAW ka ghar tha jis mein un k aba-o- ajdad ibadat kia kertay thay

Bus ferz to uss gharanay ki itaut thee ibadat ki soorat magar seerat bani faqat ghair e bashr ki manind un k ghar ki deewar -o- zeenat.

Yeh bilkul aisay k,

Loagon ko bhula dea gaya aur raasta uthalea gaya yoon

Ahdinus siratul mustaqeem ka werd kia gaya aur

Siratul lazeena unamta aleyhim say kinara kushi kerli

Bus raasto ko hidayat ka naam dea aur loagon say hadi ka laqab cheen lea gaya yoon ayat k mizdaaq huaey
k
Ghairill maghzoobe elayhim waluzuaaalin

Khuda ko chuna, Rasool ko suna, aal e rasool ko dekha magar undeh behray goongay honay per terjeeh dee.

عجیب ھو،کہ ھو ڈھونڈے ھو کیا، دیواروں میں

خدا ملا ھے کبھی کیاکہیں، دیواروں میں

کیا ڈ ھونڈتے ھو بتاؤ یہ اِن مزاروں میں

کبھی ملے گا نہ واحد یوں اِن ہزاروں میں

وجودِ حق تو جڑا ھے اُس ھی وجود کے ساتھ

جسے پکارا گیا اِتنے شہسواروں میں
ڈاکٹررضا

Asbaab -e- hashr

نمازیں کتنی پڑھ لی کتنے روزے ساتھ لایا ھے

یہ محشر ھے یہاں چلنے کو کچھ اسباب لایا ھے

نھی ھےوقت گنتا میں پڑھوں تیرے عمل کو کیوں

کوئی ھے ساتھ تیرے تو کسی کو ساتھ لایا ھے

یہاں ہر ساعت کوئی نہ کوئی منزل بدلتی ھے

بدلتے ان لمحوں کے تو عوض احساس لایا ھے

بتا مجھ کو نہ کتنے فرض تو انجام کر گزرا

وکیل اپنا کوئی تو اس جہاں میں ساتھ لایا ھے

فقط سجدے وضو صومُ و رکوع وزنی نہ مالُ زر

بتا حبِ علی مدھے محمد ساتھ لایا ھے
ڈاکٹررضا

Hospital Protocol & SOP’s for receiving routine patient while in COVID-19 pandemic, by Capt (R) Dr Raza Haider

04 June 2020
20:26AIM:Essentiality is; how to juggle with the patients who require ordinary urgent care along with treatment of those who are sick and carrying Covid -19 silently and asymptomatically.PURPOSE:

  • In the midst of the pandemic outbreak;
  • People will still have heart attacks and strokes.
  • Babies will still be born.
  • Appendixes will still burst.

Premises of current Understanding:The Theory is;

  • Virtually everyone is Covid possible
  • All patient are Covid-+ive unless and otherwise proven.

Issues:

  • “It’s very hard to cohort or gang up in a situation like this.”
  • Although patients attending hospital comes with a different complaint, they are now, compulsively treated as though may be infected.
  • Due to the silent spread of virus virtually everyone attending hospital is treated as “COVID-possible.”
  • Precisely “A woman came in with vaginal bleeding, but she was COVID-positive,” Her complaint wasn’t the disease; it was the bleeding.

HERE IS THE REASON WHY ALL HOSPITALS ARE AT THE MOMENT WHETHER A DETAILED COVID UNIT OR NOT ARE BEING TREATED AS A COVID WING.”Mandatories:

  • Strictly no visitors
  • Compulsory mask wearing (All staff /patient attendant )
  • Hand sanitizers (Alcohol based)
  • All attendant /patient scheduled for surgery will be tested regardless of symptoms.
  • Common areas like lobbies waiting room rest room to be clean often.
  • Social Distancing
  • Frequent hand wash
  • Gloves
  • PP E’s as per recommendation and first liners CHWs
  • Shield mask or transparent plastic shield for OPD all exposed staff /doctors
  • Disposable long sleeves gown
  • Shoe cover

WORKING STRATEGY:The Manchester Triage System is a clinical risk management tool used by clinicians worldwide to enable them to safely manage patient flow when clinical need far exceeds capacity.Triage:

  • The sorting out of patient or casualties to determine priority of need and proper place of treatment.
  • During infectious disease Pandemic outbreaks, triage is particularly important to separate patients likely to be infected with the non- infected for the pathogen of concern.

Protocol & Procedure:

  • Early case detection is a key to risk assessment
  • Early isolation and case identification is a pivotal way to stop transmission thus keeping reproduction rate less than.

Precautions before Reception Desk:

  • Implementing early triage and holding safety station shall keep threshold of transmissibility to lower level.
  • Every arrival shall pass through Safety station Triage preliminaries.
  • Only 1 person is allowed, less driver, with the patient to access hospital facility to avoid unwanted gathers.
  • Car or driver should not gain access beyond dropping point as such a single attendant shall be allowed with the patient.
  • Dropping points shall have wheel chairs and stretchers for prompt patient facilitation

Level (1) Safety station:

  • Arrival (Health Care Facility HCF)
  • Disinfectant spray (For cars)
  • Laser Gun screening for Fever (Fever >38°C)(For patient and attendant)
  • Initial inquiry /Complain (Fever /respiratory or others)

Level (2) safety station:

  • Dropping point
  • Surgical Mask / hand sanitizer alcohol-based hand rub
  • Surgical Gloves (Compulsory)
  • Soap and water counter only in rare cases if sanitizer unavailable

Level (3) Safety Station:

  • Walk through Disinfection Gates( Compulsory )
  • Triage Reception Desk is a respiratory virus carrier/ disease evaluation Desk

(Inquire, Identify & Sort signs and symptoms of respiratory infection)

  • History taking (At least 1 sign or symptom of respiratory disease) (e.g., cough or shortness of breath)
  • Compulsive Medical mask on patient and attendant/Driver
  • Compulsive PPE to be wear and worn by attending CHW at reception desk or N-95 with face shield and Gloves with shielding of counter/reception desk
  • Counter /desk shall have glass shield preferably so to avoid close direct contact with the patient
  • Necessary details regarding Covert disease shall be obtained as follows
  • Identify Travel and Direct Exposure History
  • Has the patient traveled or resided in another Country / City where COVID-19 is spreading during the 14 days prior to symptom onset?
  • Has the patient had contact with an individual with suspected or confirmed COVID-19 during the 14 days prior to symptom onset?
  • If yes, continue with triage and referral to:

Fever Clinic @ level 4 Safety Station ERE as suspected Covid -19Level 4 Safety Station:

  • Triage for suspected Covid -19
  • Fever evaluation
    Check for fever >38 Degree
  • Respiratory evaluation clinic

Cough shortness of breath (etc)

  • GIT, CNS or others Symptoms
  • Vomiting, Loose motions, cerebral issues
  1. If symptoms suggest provisional Covid -19 diagnosis as positive (suspect)
  • Hold patient at Isolation Bay at ERE for evaluation or further disposal to dedicated tertiary care Covid Facility

Protocol at Bay:

  • Separate from the rest of the patient
  • Detain /hold patient temp at Holding Bay
  • If test available at HC Facility Perform Covid testing/ Lab
  • If not refer to HC(Health Care ) facility for Covid -19 testing

Bay Environs Requirements:

  • Single room with negative pressure.

(Negative pressure prevents airborne diseases like TB and Flu from escaping from room and infecting others. This is performed by a Machine that pulls air in to the room and filters it before moving out.A positive air pressure is used when patient has a weakened immunity in which a clean filtered air is constantly pumped in to keep contagious disease out of room.)

  • Ensure healthcare personnel (HCP) caring for the patient adhere to Standard, Contact, and Droplet Precautions
  • Only essential HCP with designated roles should enter the room and wear appropriate personal protective equipment.
  1. If symptoms suggest provisional Covid -19 diagnosis as negative (asymptomatic)
  • Issue provisional clearance slip for OPD for further referral to OPD / ERE (non traumatic emergency cases only)

Protocol for CHW at Reception Desk:

  • Wear a face mask preferably N-95 or Medical grade surgical mask with or without PPE
  • Alcohol-based hand rub/sanitizer
  • Tissue papers
  • Social distancing one meter at least
  • Face shield
  • Clear signs at the entrance of the facility directing patients with Fever or respiratory symptoms for further report to the registration desk in the emergency department and thereof for next destination.
  • Installation of Physical Barriers (Glass or Plastic Screen to limit close and direct contact with potentially infectious
  • Trash Bin with Lid
  • Walk through disinfectant gates shall be installed well before entry corridors of OPD/ indoor building with one point of entry and exit.
  • Dedicated clinical staff (e.g. physicians or nurses) for physical evaluation of patients presenting with respiratory symptoms at level 4 safety triage point.
  • The staff should be trained on triage procedures, COVID-19 case definition.
  • Compulsory Complete appropriate personal protective equipment kit (PPE) be worn if available easily (i.e. Mask, eye protection, gown and gloves).
  • Standardized triage questionnaire for use and should include questions that will determine if the patient meets the COVID-19 case definite
  • Questionnaire should include history of;
  1. Travel within last 15 days
  2. Covid-19 positive contact history
  3. Fever
  4. Shortness of breath
  5. Any associated disease ranging from respiratory to medical like diabetes, hypertension or autoimmune
  6. Drug history
  • A notification system to hold patients to wait in personal vehicle so that social distance can be maintained and preliminary evaluation as to history or suspected Covid -19 evaluation can be made
  • Limiting the number of accompanying family members in the waiting area or hospital
  • No one under 18 years old unless a patient or a parent.
  • Anyone and everyone within hospital premises waiting area” should wear a facemask and Gloves.
  • Triage area, including waiting areas should be cleaned at least twice a day with a focus on frequently touched surfaces. (Disinfection can be done with 0.1% (1000ppm) chlorine or 70% alcohol for surfaces that do not tolerate chlorine. For large blood and body fluid spills, 0.5% (5000ppm) chlorine is recommended.)
  • All HCWs (Health Care Worker) should adhere to Standard Precautions, which includes hand hygiene, selection of PPE based risk assessment, respiratory hygiene, clean and disinfection and injection safety practices.
  • All HCWs should be trained on and adhere to precautions (e.g. contact and droplet precautions, appropriate hand hygiene, donning and doffing of PPE) related to COVID-19.
  • If wearing a PPE all must follow appropriate PPE donning and doffing steps.
  • Perform hand hygiene frequently with an alcohol-based hand rub
  • HCWs who are likely to come in contact with suspected or confirmed COVID-19 patients should wear appropriate PPE
  • HCWs in triage area who are conducting preliminary screening do not require PPE if they DO NOT have direct contact with the patient and MAINTAIN distance of at least one meter.
  • HCW does not need PPE as long as spatial distance can be safely maintained.
  • When physical distance is NOT feasible and yet NO direct contact with patients, use mask and eye protection (face shield or goggles).
  • HCWs conducing physical examination of patients with respiratory symptoms should wear gowns, gloves, medical mask and eye protection (goggles or face shield).
  • Cleaners in triage, waiting and examination areas should wear gown, heavy duty gloves, medical mask, eye protection (if risk of splash from organic material or chemical), boots or closed work shoes.
  • Ensure that environmental cleaning and disinfection procedures are followed consistently and correctly
  • Expand hours of operation, if possible, to limit crowding at triage during peak hours and maintenance of social distancing must be observed.
  • All other departments shall observed similar safety precautionary measure while handling patients for any purpose as laboratory or investigations.
  • Admission discharge desk shall also follow recommended and defined SOP safeguarding desk and people in similar fashion.
  • All Patients tentatively cleared from Covid -19 shall pass through walk through disinfection gate with compulsory mask and gloves.
  • All clinician shall wear Gloves (disposable) for each patient with mask and face Shield so that safe distance and droplets affairs can be safely managed.

Lab Protocol:

  • Sampling and collection of sample shall be under strict defined SOP’s with preferred PPE or mask /shield and gloved protocol.
  • All patients regardless should be treated as Covid-(+ive) hence shall be under compliance of SOP’.
  • There will be one patient with attendant in a lab while and during sampling and registration with proper distancing protocol.
  • Disposal of used kits /syringes etc shall be under guided criterion with proper color codes as infectious.
  • Attendant at Reception counter must wear recommended available overalls.

Radiology Protocol:

  • All patients regardless should be treated as Covid-(+ive) hence shall be under compliance of SOP’.
  • Radiographer shall wear PPE or Disposable apron with mask/gloves /facial shield.
  • No patient with recommended SOPS shall be treated without.
  • Proper distant shall be maintained preferably and hand sanitizers be used in between patients along with disposable gloves.

Pharmacy Protocol:

  • Dispenser shall wear disposable gown, mask gloves and face shield maintaining recommended distance.
  • No patient or attendant shall gain access in pharmacy or dispensing Room.

Protocols at Reception Desk & counter

  • All Admission- Discharge counter /OPD counter and similar labs dispensing and radiology counter and reception desk shall be shielded with transparent glass or through and through plastic shields to avoid direct contact and exposure to the staff.
  • CHW/ Attendants at all reception shall be in complete compliance of SOP’s.

Protocols at OPD:

  • Specialist shall have selective days and hours of their OPD.
  • All walk –in patient shall abide hospital SOPS & protocols
  • Clinician shall take necessary precautions at their own in examination and handling of patient for their own safety.
  • Under no means clinician will be allowed to examine patient without mask, face shield and gloves.
  • Hospital shall make available requisite necessities at charges for patients attending hospital and clinicians.
  • There will be restricted number of patient in OPD hence as such a preferred mode of appointment shall be an E- appointment by Telephone.
  • However walk in customer will be to the maximum facilitated.
  • Different specialty will have different days as such specialties shall have different days.

Protocol for OT:

  • All patient undergoing elective surgery regardless of specialty and procedure shall be tested for Covid -19
  • Emergency surgery shall have defined Protocol of Covid-19 taking care as if operated upon Covid (+) positive case.
  • All procedures from anesthesia to recovery shall be governed and watched in full SOPs and disposal shall have structured criterion.
  • Gynecological procedures, caesarian sections and deliveries all shall have covid -19 testing prior to Hospital Visit.

Protocol of admission /Wards:

  • All Admission regardless of specialty and diagnosis shall be treated as suspect unless testing is done.
  • All Cases pertaining to fever or Respiratory symptoms should be dealt cautiously and consciously.
  • Wards must have less number of beds keeping distance between.
  • Rest of the SOPs as recommendation should be followed both by the patient, attendant and CHW.
  • Attendants will be treated in the same way as is protocols are being followed for a Covid (+) suspect.
  • Rest room and toiletries should be washed at frequent intervals.
  • Waiting areas and public place shall be cleaned at least twice.
  • Workers involved in cleanliness and disposal shall ideally be in PPE.
  • All donning and doffing procedure need to be followed in true letter and spirit as per WHO recommended Procedure (Dr Raza)

Dushman -e- ahl-e- bait teri bait pey laanat

*تمام مسلمان بشمول فقہ، محمد و آلِ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )کے دشمنوں سے اظہارِ برات و بے تعلقی کرتے ھیں*

*ھم با حیثیتِ شیانِ علی دراصل محمد و آلِ محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے دشمنوں سےبرات و بے تعلقی کا اعلان برملا کرتے ھیں*

*ھمارے عقیدے کے مطابق محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور اُن کے خانوادہ اور آباؤ اجداد سب کا یھی نقطہِ نظر اور عقیدہ تھا کہ وہ محمدو آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں سے برات اور بے تعلقی کا اظہار کیا کرتےتھے*

*یہ براتِ آئمہ طاہرین ( علیہ سلام) کے رواج اور رسم میں اک عملِ واجب ک ی صورت امر بل معروف تھی*

*اور یہی رواج امام محمد باقر ( علیہ سلام) سنتِ اہلِ بیت( علیہ سلام)پر دشمنانِ اہلِ بیت کے بارے میں اپنے شیان کو کچھ اس طرح دیا کرتے تھے*

*تم مجھ سے کیا پوچھتے ھو اُن کافر پیشواؤں کے بارے میں؟*

*ہم اہلِ بیتِ محمد میں جو بھی اس دنیا سے واپس گیا، وہ نا پسندیدگی کی انتہا پر اِن لوگوں سے برات کرتا رھا*

*ھمارے بڑوں نے ھماری آئندہ کی نسلوں کو اس بات اور برات کی تعلیم دیتے رھے اور دے کر گئے*

*بلاشبہ ان لوگوں نے ھمارے حقوق بغیرِ حق غضب کئے*

*خدا کی قسم یہ لوگ سب سے پہلے ھماری گردنوں کا سودا کرنے والے تھے*

*لعنت ھے ان پر اللہ کی، ملائکہ کی اور انسانیت کی*

*بلاشبہ یہ پیشوا اس دنیا سے توبہ کئے بغیر گزرے، اُس جرم پر جو اُنہو ںنے علی (علیہ)کے ساتھ کیا، بلکہ وہ ھمارے خلاف برائیوں کو برائی نھی سمجھتے تھے*

*لعنت ھو اُن پر خدا کی، ملائکہ کی اور انسانیت کی*
*(ڈاکٹررضا)*

نجاست سے دور مہرِ نبوت

دین کی بنیاد خدا کی وحدانیت اور اس کے لا شریک ھونے سے جڑی ھے

یوں خدا کی وحدانیت نبوت کے صادق اور امین ھونے سے مشروط ھے

اب سوال یہ ھے کہ جسے دیکھا نھی وہ کاملِ یقین کی منزل پر کیسے !

کسی ذات کا ھونا تقاضہ وجود میں موجودگی کی دلیل مانگا کرتا ھے

یوں کسی شہ کا موجود نہ ھونا بھی اُس کے نہ ھونے پر فیصل نھی ھوا کرتی

جہاں کسی کا ھونا کسی کے دلائل سے جڑا ھو، وہاں دلیل محتاج ھوتی ھے دلائل دینے والے کی

یوں دلائل صداقت کی بیڑی میں امانت کی ہتھکڑی میں گرفتار ھوا کرتا ھے دعوہ کرنے والے کے کردار میں

اعلانِ نبوت اور رسالت میں ایمان موجود پر ھوا کرتا ھے اور یقین موجود کی بات پر ایسے کہ کامل یقین اُس نہ دکھنے والی ذات پر جو فقط موجود کے وجود سے جڑی ھوا کرتی ھے، گویا اُس کے موجود ھونے سے

اب سوال یہ ھے کہ، موجود کی سچائی کی گواہی کون اور کیوں کر قبولِ عقل و شعور پر دے، جب کہ موجود خود اک وجود لئے خلق ھوئ بشر کی صورت خلقت ھو، ایسے کہ امانت لئے نبوت و رسالت کا دعویدار ھو اور وحدہُ لا شریک کی وحدانیت کا علم بردار ھو

یہ بلخصوص ایسے معاشرے میں جہاں وحدانیت شرک سے آلودہ ھو اور نبوت کہیں قتل اور کہیں تکزیب کے سانچوں میں دربدر بے مسندو و مال و زر ھو

ضروری ھے ! کہ دعویدار اعلانِ اقتدار سے پہلے اعتبار کی اُس منزل پر ھو جہاں دعوہ اُس کی پچھلی زندگی کا پوشاک رھا ھو، ایسے کہ شرک کی بستی میں بھی وحدانیت کا قائل اور علمبردار ھو

بس دعوہِ نبوت کی پہلی سیڑھی خاندانِ نبوت کے طور طریقے اطوار کو لئے نسلوں سے اطاعت اور پیروکار کا وہ مظہر ھوا کرتی ھے، جہاں دعوہ ہر نسل کی ترویج اور تصویر ھوا کرتا ھے گویا وحدہُ لا شریکَ کا اعلان ہر نسل کی داستان اور نبوت ہر باپ دادا کی پہچان

یہ اس لئے کہ کردار اک دن کا نھی برسوں کے دستور اور اطوار ھوا کرتا ھے

یوں صداقت کردار کا پیشہ اور امانت خلقت میں ڈھلی خصلت
ھوا کرتی ھے
یھی صداقت اور امانت خود پر دلیل بن کر وحدانیت کی مہر اور واحد سبیل ھوا کرتی ھے

اگلی نسل کا کردار پچھلی روایت کا عَلم بردار ھوا کرتا ھے

پچھلوں کی صداقت اگلی کو امانتدار بناتی ھے

وحدانیت کا دعوے میں شرک سے براعت اگر نسلوں کا کردار نہ ھو تو دعوہ مشکوک بن جاتا ھے، یوں دعوتِ دین ہر قدم
پچھلوں کے سائےمیں اگلوں کی سرزرش ھوا کرتی ھے

بس ثابت ھے کہ باپ دادا کی ریت روایت قصے اور حکایت اگلی نسل کی امارت ھوا کرتی ھے

آدم سے آخر تک کے سفر میں ابتدا انتہا سے جڑی ھے اور یوں انتہا ابتدا کا آغاز ھوا کرتی ھے، جو ازل سے ھی آبد کا راستہ ہموار کرتی ھے

جہاں آدم ہاتھوں سے خلق ھو، وہاں کن فیَکن

پہلے ھی آخر تخلیق کردیا کرتا ھے، یوں پہلے سے

آخر تک کا سفر اک ھی کُن میں ترتیب دے دیا

جاتا ھے، ایسے کہ پہلے سے پہلے آخر کا وجود

یہ اس لئے کہ ہر ابتدا انتہا کو سمیٹے ھوئے ھے، یوں بشر سے محشر اور اس کے درمیاں ہر اک کتاب دفتر میں درج ھے

آدم کی ابتدا ارتقا سے وحدہ لا شریک کے مظہر سے جڑی ھے، یوں نبوت دعوہ نھی، اس کا استر ھے، جو سجدے گاہِ مالک وعالیان و بشر تھی، یوں ہر آنے والا اک فطرت لئے فقط اک سنت پر وحدہ لا شریک کی تسبیح پر اپنی مہر و نبوت لئے اُترا
گویا جو اترا وہ معصوم اور ہر نجاست سے دور کہ مہرِ نبوت روحِ پروردگار سے جڑی اور روح ایسے کہ ہر نجاست سےدُور اک پُرنور وجود لئے بھیجنے والی ذات پر آمین کی نکیل لیے ایسے کہ پہلا اگلے کی نوید لئے اُتارا ، یوں صبر اور شکر کے ریت و رواج میں منزلِ شہادت اور استقامت پر

کیسے ممکن ھے کہ جہاں خلقت وحدہ لا شریک کا کُن لئے فَیکن کا اثر ھو، وہاں فیَکن حالتِ شرک میں شرک کے باوجود نبوت کی منزل پر زیبِ تن ھو

کیسے ممکن ھے کہ جہاں منزلِ امامت پر بعداز خدا منصبِ محراب و ممبر دعوہِ نبوت و رسالت کے استر میں لا شریک کی سبیل ھو، وہ خود مشرک کی صورت شرک کرتا رھا ھو

نہ جانے یہ کس دین کے پیروکار ھیں جہاں کبھی کے مشرک کو نبوت کے سانچے میں پِروکر تقاضہ قدرو منزلت میں سمویا کرتے ھیں ، یوں مہرِ خاتم انّبین کے بعد بھی کبھی مشرک کو نبوت کے عَلمِ بردار کی صورت گمراہ کُن اعلان کیا کرتے ھیں “ کہ میرے بعد اگر نبی ھوتا تو پتا نھی کون ھوتا”

ڈاکٹررضا

نبوت و رسالت

عجب نھی کہ مسندِ نبوت کو ختمِ نبوت کے بعد منصوب کرنا بلاشبہ ختمِ نبوت و رسالت کو مشکوک کرنا ھے

یہ اس لئے کہ نبی جیسا کوئی بشر نھی اور نبوت جیسا کوئی منسب نھی

کیسے ممکن ھے جہاں خلقتِ آدم کی ابتداء سے بھی پہلے نورِ محمد ھو اور بعدِ ظہورِ محمد کسی کے کردار کو محمد کی نبوت کے ہمسر ٹھہرایا جائے، ایسے کہ صفات، ادراک،علم،منسب فطرت،عصمت،عطرت اور مجسم نور کے طلسم پر عرشِ اولہ پر موجود محمد جیسے واحد نورِ بشر جیسا دکھایا جائے، جب کہ وہ شخص اک عمر لئے بے دین و گمراہ اک نجس نطفے کے اثر میں وجودِ شر ھو، کہ قرآن کہ اٹھے کہ کیا کبھی بنی نوع انسان نے اپنی نجس خلقت نھی دیکھی، کہ کس نجس نطفے سے ھم نے اس کو خلق کیا، یوں سورۂ یاسین کی اس آیت کا مزداق ھو کہ “تاکہ تم ان لوگوں کو گمراہی سے نکالو، جن کے باپ دادا گمراہ تھے”

بس کیسے ممکن کہ شرک میں ڈوبا، نفس, اولہ کی مانند نبوت کے منصب پر نگاہِ بشر ڈال بھی سکے

عجب شرک ھے کہ جہاں کائنات کی خلقت خاتمُُ نبیٍ کی صورت محمد کے وجود کو لئے حجّتِ کائنات ھو وہاں مزاجِ مسلماں اک نجس نطفہِ بشر کو نبوت کے آنسر پر ذات، صفات اور اوصاف کے کردار پر دیکھنا شروع کردے، یوں کبھی کہ مشرک کو باوجود شرک کے نبوت کے سانچوں میں تولنا شروع کر دے

عجب نھی یہ روایت کہ جہاں دین ایمان کو لئے خاتمُُ نبیٍ سے جڑا ھو یوں آخر مانانِ ایمانِ کل ھو وہاں ایمان کو بے یقین کرنے اک نفس کو مسندِ نبوت کے ہمسر لا کھرا کیا جائے ، ایسے کہ جیسے کے وہ بھی انھی کرامات اور صفات پر جیسے وہ بھی نبوت کے ھم پلّہ ھو

جہاں مزاجِ پیروی میں مسلمان اپنے جیسے انسان کو نبوت کے سانچوں میں دیکھنے لگے وہاں دین فطرت سے ہٹ کر خواہش بن جاتا ھے ، یوں خلیفہ بلا فصل سقیفہ بل شر کہلاتا ھے

نبوت کی پہلی شرط نجاست سے پاک خلقت ھے، جہاں امر آسمانوں پر سجدہ لئے وجودِ بشر میں روح کے تعلق سے جڑا ھے”کہ جب میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدہ کرنا”

گویا کہ،
“ابھی وجود نھی پر بشر نبی ٹہرا”

اور یھی نھی،

“ ھے سجدے گاہ تیری، منزلِ عطاعت میں

میری ھی روح لیے یہ میرا ازن ٹہرا”

جہاں خلقتِ نبوت ازنِ الہی سے جڑی امر لئے روحِ پروردگار کی صورت سانچِہ نبوت ھو، وہاں کوئی مشرک اور نجس نطفے سے پیدا ھوئی مخلوق مسند نبوت و امامت پر فائزنھی ھوا کرتا، یوں یہ ضعیف روایت بلاشبہ زمانے کی گرد میں غرور و تکبر کے ارض میں کسی بے دین روی کی غفلت سے جڑی رسم بغضِ عظمتِ آلِ محمد میں ڈوبا مقروضہ ھے جس میں کفر واضح اور ایمان ناپید ھے
(ڈاکٹررضا)

عبادت

دراصل عبادت نماز یا اُس جیسی کوئی فرض واجبات نھی، بلکہ عبادت عبدیت کی وہ پابندِ سلاسل طوق ، ھتکڑی اور بیڑیاں پہنے قید ھے، جس کی آزادی خود قیدی کا اپنا اختیار ہو اور جو اپنی رضا کو لئے کسی کی رضا سے بے پرواہ وقت اور حسار سے باہر جزا اور سزا سے عاجز کسی بھی تسکین اورتلقین سے عاری، وقت، حالات اور پہر سے آزاد، دیکھ لئے جانے کے ڈر اور ریاکاری سے دُور قیام، رکوع اور سجدے میں ڈھلی ایسی کیفیت لئے جس میں نہ کوئی رسم اور رواج ،نہ ھی سلسلہِ طریق و تکبیر،کہ نہ کوئی طور رائج، نہ طریقہ غالب،یوں عمل کے پابند نھی اور نہ اجرِ خیر کاطالب،بس خلوص اور نیت منزلِ کمال پرنامِ محبوب سے جڑی سانسوں کی وہ تسبیح لئے جو ہوش و حواس میں محبوب کا وِرد دل کی دھڑکنوں سے بجا لائے

بس عبادت معیارِ عطا اور جزا سے بے پرواہ ہوا کرتی ھے، یوں نہ خوف معبود کا اور نہ لرزہ بندگی کا ، کہ پھر خود معبود اپنے کلام میں قبولیت اور پیار کا اعلان کچھ ایسے کرے، کہ چاند کی قسم، سورج کی قسم ،نہ تو ھم تم سے ناراض ھوے اور نہ ھی ھم نے چھوڑا

ڈاکٹررضا