تعجب ہے مجھے اس ریاست کی کمزوری پر جس کے اپنے باشندے اس کے اپنے ہی حصارِ مُملِکت و حکومت میں دیدہ دلیری سے چھلنی کردیۓ جاۓ
یہ کوئی انفرادی رعونیت سے جڑا کسی خاص مسلک کے حصول سے منسلک تجدیدو تمہیدِ سے آوستہ وقتی جذبات میں ڈوبا یا پرویا بھڑکاوا نہیں تھا بلکے عَقد و حَلف سے جرّا عقیدے سے پیوستہ سختی کا دفیعہ وہ دفیعہ تھا جوحاملِ اقوالِ اھلیبیت ع و کلامِ قرآن کے عین مطابق حکم و احکام
“اور ہم نے لکھ دیا تھا ان پر اس (تورات) میں کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور اس طرح زخموں کا بدلہ بھی ہوگا برابر کا پھر جو کوئی اس کو معاف کردے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہوگا اور جو فیصلے نہیں کرتے اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق وہی تو ظالم ہیں”
بس بہرصورت قتلِ عالَم کا قصاص واجب تھا اور اب پھر قتلِ عوام پر یہی قصاص ایک بار پھر واجب
کیا یہ گونگی بہری اندھی ریاست ہے
(ڈاکٹر رضا )