يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٨﴾
سورة المنافقون
[63:8] ابوالاعلی مودودی
یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں
وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْۘ-اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ-هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
سورۃ یونس
(65/65)
اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کروبیشک تمام عزتوں کا مالک اللہ ہے ، وہی سننے والا جاننے والاہے۔
قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٢٦﴾
سورة آل عمران
[3:26] ابوالاعلی مودودی
کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تو جسے چاہے، حکومت دے اور جسے چاہے، چھین لے جسے چاہے، عزت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے
وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ ۖ
جسے چاہے، عزت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کر دے
وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٨﴾
عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں
“عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں”
بس اب آیات نے معیارِ عزت اپنے کلام سے محفوظ کردیا
گویا معیار اب کلمہ نہیں بلکے خلوص و اخلاص ہوگا یوں زُہد و عابد اور عبادت نہیں بلکے عبد و عاجز ہوگا یوں تقاضۂ مومن ہوگا گویا حصارِمنافق نہیں"حالانکہتو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں
گویا عزت اب ممبر و ممبا ہوگا فقط خداﷻ اس کے رسولﷺ اور مومنین ع پر قیام کی صورت
اختیارِ عطاء فقط عطاۓ پروردگار ﷻ، نداۓ معبود ﷻ فقط ذات رسولﷺ اور کساۓ خداﷻ و رسل ﷺفقط وجودِ مومنین ع
بس اب عزت اور ذلّت میعیار پروردگار فقط اختیارِ پروردگار جو کردار مومن پر قیام اور اظہارِ و ظہورِمنافق پر غروب و اختتام ہوگا
(ڈاکٹر رضا)