*تمام مسلمان بشمول فقہ، محمد و آلِ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )کے دشمنوں سے اظہارِ برات و بے تعلقی کرتے ھیں*

*ھم با حیثیتِ شیانِ علی دراصل محمد و آلِ محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے دشمنوں سےبرات و بے تعلقی کا اعلان برملا کرتے ھیں*

*ھمارے عقیدے کے مطابق محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور اُن کے خانوادہ اور آباؤ اجداد سب کا یھی نقطہِ نظر اور عقیدہ تھا کہ وہ محمدو آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں سے برات اور بے تعلقی کا اظہار کیا کرتےتھے*

*یہ براتِ آئمہ طاہرین ( علیہ سلام) کے رواج اور رسم میں اک عملِ واجب ک ی صورت امر بل معروف تھی*

*اور یہی رواج امام محمد باقر ( علیہ سلام) سنتِ اہلِ بیت( علیہ سلام)پر دشمنانِ اہلِ بیت کے بارے میں اپنے شیان کو کچھ اس طرح دیا کرتے تھے*

*تم مجھ سے کیا پوچھتے ھو اُن کافر پیشواؤں کے بارے میں؟*

*ہم اہلِ بیتِ محمد میں جو بھی اس دنیا سے واپس گیا، وہ نا پسندیدگی کی انتہا پر اِن لوگوں سے برات کرتا رھا*

*ھمارے بڑوں نے ھماری آئندہ کی نسلوں کو اس بات اور برات کی تعلیم دیتے رھے اور دے کر گئے*

*بلاشبہ ان لوگوں نے ھمارے حقوق بغیرِ حق غضب کئے*

*خدا کی قسم یہ لوگ سب سے پہلے ھماری گردنوں کا سودا کرنے والے تھے*

*لعنت ھے ان پر اللہ کی، ملائکہ کی اور انسانیت کی*

*بلاشبہ یہ پیشوا اس دنیا سے توبہ کئے بغیر گزرے، اُس جرم پر جو اُنہو ںنے علی (علیہ)کے ساتھ کیا، بلکہ وہ ھمارے خلاف برائیوں کو برائی نھی سمجھتے تھے*

*لعنت ھو اُن پر خدا کی، ملائکہ کی اور انسانیت کی*
*(ڈاکٹررضا)*