دین کی بنیاد خدا کی وحدانیت اور اس کے لا شریک ھونے سے جڑی ھے

یوں خدا کی وحدانیت نبوت کے صادق اور امین ھونے سے مشروط ھے

اب سوال یہ ھے کہ جسے دیکھا نھی وہ کاملِ یقین کی منزل پر کیسے !

کسی ذات کا ھونا تقاضہ وجود میں موجودگی کی دلیل مانگا کرتا ھے

یوں کسی شہ کا موجود نہ ھونا بھی اُس کے نہ ھونے پر فیصل نھی ھوا کرتی

جہاں کسی کا ھونا کسی کے دلائل سے جڑا ھو، وہاں دلیل محتاج ھوتی ھے دلائل دینے والے کی

یوں دلائل صداقت کی بیڑی میں امانت کی ہتھکڑی میں گرفتار ھوا کرتا ھے دعوہ کرنے والے کے کردار میں

اعلانِ نبوت اور رسالت میں ایمان موجود پر ھوا کرتا ھے اور یقین موجود کی بات پر ایسے کہ کامل یقین اُس نہ دکھنے والی ذات پر جو فقط موجود کے وجود سے جڑی ھوا کرتی ھے، گویا اُس کے موجود ھونے سے

اب سوال یہ ھے کہ، موجود کی سچائی کی گواہی کون اور کیوں کر قبولِ عقل و شعور پر دے، جب کہ موجود خود اک وجود لئے خلق ھوئ بشر کی صورت خلقت ھو، ایسے کہ امانت لئے نبوت و رسالت کا دعویدار ھو اور وحدہُ لا شریک کی وحدانیت کا علم بردار ھو

یہ بلخصوص ایسے معاشرے میں جہاں وحدانیت شرک سے آلودہ ھو اور نبوت کہیں قتل اور کہیں تکزیب کے سانچوں میں دربدر بے مسندو و مال و زر ھو

ضروری ھے ! کہ دعویدار اعلانِ اقتدار سے پہلے اعتبار کی اُس منزل پر ھو جہاں دعوہ اُس کی پچھلی زندگی کا پوشاک رھا ھو، ایسے کہ شرک کی بستی میں بھی وحدانیت کا قائل اور علمبردار ھو

بس دعوہِ نبوت کی پہلی سیڑھی خاندانِ نبوت کے طور طریقے اطوار کو لئے نسلوں سے اطاعت اور پیروکار کا وہ مظہر ھوا کرتی ھے، جہاں دعوہ ہر نسل کی ترویج اور تصویر ھوا کرتا ھے گویا وحدہُ لا شریکَ کا اعلان ہر نسل کی داستان اور نبوت ہر باپ دادا کی پہچان

یہ اس لئے کہ کردار اک دن کا نھی برسوں کے دستور اور اطوار ھوا کرتا ھے

یوں صداقت کردار کا پیشہ اور امانت خلقت میں ڈھلی خصلت
ھوا کرتی ھے
یھی صداقت اور امانت خود پر دلیل بن کر وحدانیت کی مہر اور واحد سبیل ھوا کرتی ھے

اگلی نسل کا کردار پچھلی روایت کا عَلم بردار ھوا کرتا ھے

پچھلوں کی صداقت اگلی کو امانتدار بناتی ھے

وحدانیت کا دعوے میں شرک سے براعت اگر نسلوں کا کردار نہ ھو تو دعوہ مشکوک بن جاتا ھے، یوں دعوتِ دین ہر قدم
پچھلوں کے سائےمیں اگلوں کی سرزرش ھوا کرتی ھے

بس ثابت ھے کہ باپ دادا کی ریت روایت قصے اور حکایت اگلی نسل کی امارت ھوا کرتی ھے

آدم سے آخر تک کے سفر میں ابتدا انتہا سے جڑی ھے اور یوں انتہا ابتدا کا آغاز ھوا کرتی ھے، جو ازل سے ھی آبد کا راستہ ہموار کرتی ھے

جہاں آدم ہاتھوں سے خلق ھو، وہاں کن فیَکن

پہلے ھی آخر تخلیق کردیا کرتا ھے، یوں پہلے سے

آخر تک کا سفر اک ھی کُن میں ترتیب دے دیا

جاتا ھے، ایسے کہ پہلے سے پہلے آخر کا وجود

یہ اس لئے کہ ہر ابتدا انتہا کو سمیٹے ھوئے ھے، یوں بشر سے محشر اور اس کے درمیاں ہر اک کتاب دفتر میں درج ھے

آدم کی ابتدا ارتقا سے وحدہ لا شریک کے مظہر سے جڑی ھے، یوں نبوت دعوہ نھی، اس کا استر ھے، جو سجدے گاہِ مالک وعالیان و بشر تھی، یوں ہر آنے والا اک فطرت لئے فقط اک سنت پر وحدہ لا شریک کی تسبیح پر اپنی مہر و نبوت لئے اُترا
گویا جو اترا وہ معصوم اور ہر نجاست سے دور کہ مہرِ نبوت روحِ پروردگار سے جڑی اور روح ایسے کہ ہر نجاست سےدُور اک پُرنور وجود لئے بھیجنے والی ذات پر آمین کی نکیل لیے ایسے کہ پہلا اگلے کی نوید لئے اُتارا ، یوں صبر اور شکر کے ریت و رواج میں منزلِ شہادت اور استقامت پر

کیسے ممکن ھے کہ جہاں خلقت وحدہ لا شریک کا کُن لئے فَیکن کا اثر ھو، وہاں فیَکن حالتِ شرک میں شرک کے باوجود نبوت کی منزل پر زیبِ تن ھو

کیسے ممکن ھے کہ جہاں منزلِ امامت پر بعداز خدا منصبِ محراب و ممبر دعوہِ نبوت و رسالت کے استر میں لا شریک کی سبیل ھو، وہ خود مشرک کی صورت شرک کرتا رھا ھو

نہ جانے یہ کس دین کے پیروکار ھیں جہاں کبھی کے مشرک کو نبوت کے سانچے میں پِروکر تقاضہ قدرو منزلت میں سمویا کرتے ھیں ، یوں مہرِ خاتم انّبین کے بعد بھی کبھی مشرک کو نبوت کے عَلمِ بردار کی صورت گمراہ کُن اعلان کیا کرتے ھیں “ کہ میرے بعد اگر نبی ھوتا تو پتا نھی کون ھوتا”

ڈاکٹررضا