عجب نھی کہ مسندِ نبوت کو ختمِ نبوت کے بعد منصوب کرنا بلاشبہ ختمِ نبوت و رسالت کو مشکوک کرنا ھے

یہ اس لئے کہ نبی جیسا کوئی بشر نھی اور نبوت جیسا کوئی منسب نھی

کیسے ممکن ھے جہاں خلقتِ آدم کی ابتداء سے بھی پہلے نورِ محمد ھو اور بعدِ ظہورِ محمد کسی کے کردار کو محمد کی نبوت کے ہمسر ٹھہرایا جائے، ایسے کہ صفات، ادراک،علم،منسب فطرت،عصمت،عطرت اور مجسم نور کے طلسم پر عرشِ اولہ پر موجود محمد جیسے واحد نورِ بشر جیسا دکھایا جائے، جب کہ وہ شخص اک عمر لئے بے دین و گمراہ اک نجس نطفے کے اثر میں وجودِ شر ھو، کہ قرآن کہ اٹھے کہ کیا کبھی بنی نوع انسان نے اپنی نجس خلقت نھی دیکھی، کہ کس نجس نطفے سے ھم نے اس کو خلق کیا، یوں سورۂ یاسین کی اس آیت کا مزداق ھو کہ “تاکہ تم ان لوگوں کو گمراہی سے نکالو، جن کے باپ دادا گمراہ تھے”

بس کیسے ممکن کہ شرک میں ڈوبا، نفس, اولہ کی مانند نبوت کے منصب پر نگاہِ بشر ڈال بھی سکے

عجب شرک ھے کہ جہاں کائنات کی خلقت خاتمُُ نبیٍ کی صورت محمد کے وجود کو لئے حجّتِ کائنات ھو وہاں مزاجِ مسلماں اک نجس نطفہِ بشر کو نبوت کے آنسر پر ذات، صفات اور اوصاف کے کردار پر دیکھنا شروع کردے، یوں کبھی کہ مشرک کو باوجود شرک کے نبوت کے سانچوں میں تولنا شروع کر دے

عجب نھی یہ روایت کہ جہاں دین ایمان کو لئے خاتمُُ نبیٍ سے جڑا ھو یوں آخر مانانِ ایمانِ کل ھو وہاں ایمان کو بے یقین کرنے اک نفس کو مسندِ نبوت کے ہمسر لا کھرا کیا جائے ، ایسے کہ جیسے کے وہ بھی انھی کرامات اور صفات پر جیسے وہ بھی نبوت کے ھم پلّہ ھو

جہاں مزاجِ پیروی میں مسلمان اپنے جیسے انسان کو نبوت کے سانچوں میں دیکھنے لگے وہاں دین فطرت سے ہٹ کر خواہش بن جاتا ھے ، یوں خلیفہ بلا فصل سقیفہ بل شر کہلاتا ھے

نبوت کی پہلی شرط نجاست سے پاک خلقت ھے، جہاں امر آسمانوں پر سجدہ لئے وجودِ بشر میں روح کے تعلق سے جڑا ھے”کہ جب میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدہ کرنا”

گویا کہ،
“ابھی وجود نھی پر بشر نبی ٹہرا”

اور یھی نھی،

“ ھے سجدے گاہ تیری، منزلِ عطاعت میں

میری ھی روح لیے یہ میرا ازن ٹہرا”

جہاں خلقتِ نبوت ازنِ الہی سے جڑی امر لئے روحِ پروردگار کی صورت سانچِہ نبوت ھو، وہاں کوئی مشرک اور نجس نطفے سے پیدا ھوئی مخلوق مسند نبوت و امامت پر فائزنھی ھوا کرتا، یوں یہ ضعیف روایت بلاشبہ زمانے کی گرد میں غرور و تکبر کے ارض میں کسی بے دین روی کی غفلت سے جڑی رسم بغضِ عظمتِ آلِ محمد میں ڈوبا مقروضہ ھے جس میں کفر واضح اور ایمان ناپید ھے
(ڈاکٹررضا)