دراصل عبادت نماز یا اُس جیسی کوئی فرض واجبات نھی، بلکہ عبادت عبدیت کی وہ پابندِ سلاسل طوق ، ھتکڑی اور بیڑیاں پہنے قید ھے، جس کی آزادی خود قیدی کا اپنا اختیار ہو اور جو اپنی رضا کو لئے کسی کی رضا سے بے پرواہ وقت اور حسار سے باہر جزا اور سزا سے عاجز کسی بھی تسکین اورتلقین سے عاری، وقت، حالات اور پہر سے آزاد، دیکھ لئے جانے کے ڈر اور ریاکاری سے دُور قیام، رکوع اور سجدے میں ڈھلی ایسی کیفیت لئے جس میں نہ کوئی رسم اور رواج ،نہ ھی سلسلہِ طریق و تکبیر،کہ نہ کوئی طور رائج، نہ طریقہ غالب،یوں عمل کے پابند نھی اور نہ اجرِ خیر کاطالب،بس خلوص اور نیت منزلِ کمال پرنامِ محبوب سے جڑی سانسوں کی وہ تسبیح لئے جو ہوش و حواس میں محبوب کا وِرد دل کی دھڑکنوں سے بجا لائے

بس عبادت معیارِ عطا اور جزا سے بے پرواہ ہوا کرتی ھے، یوں نہ خوف معبود کا اور نہ لرزہ بندگی کا ، کہ پھر خود معبود اپنے کلام میں قبولیت اور پیار کا اعلان کچھ ایسے کرے، کہ چاند کی قسم، سورج کی قسم ،نہ تو ھم تم سے ناراض ھوے اور نہ ھی ھم نے چھوڑا

ڈاکٹررضا