بس جب وجود ذات کے پیکر میں ڈھلتاھے تو ذات وجود کے استر میں آ موجود ھوا کرتی ھے

یھی ذات اور وجود کی اپنی ساخت اور شناخت سے جڑا ھونا گویا مانندِ وجود بشر کی صورت آ موجود ھونا دراصل مزاجِ جنوں انس و بشر میں امتزاجِ شر پیدا کیا کرتا ھے

بس ذات سے وجود اور وجود سے ذات تک کے صفر میں بصارت سے بے پرواہ انبوہ بصیرت پر ہی تقاضہِ عبادت کی تکمیل کردیا کرتا ھے

یوں بشر سے شر تک کا صفر ذات سے بے پرواہ وجود کے محور میں ھی ادا کرتا ھے

بات یہ ھے کہ جہاں بصیرت دید سے جڑی ھو وہاں بصارت گمان ھوا کرتی ھے اور کامل یقین فقط کیفیتِ بصیرت

شائد یھی وجہ ھے جو سجدے میں عبادتن جان دینا اور پھر خود کو کامیاب قرار دینا غالباًاس بات کی نوید تھی کہ بشر سے شر کو جدا کردیا

یوں وحدانیت کو سجدہ کر کے بیاں کردیا اور وحدہ لا شریک کو عیاں کردیا، ایسے کہ علی اسمِ الہی کا مظہر ھے یعنی وہ جس کا کعبہ گھر ھے
ڈاکٹررضا