مجھے دکھا کے تو کس طرح زندگی دے گا

کہ اس یقین کو کامل یقین کر گزروں

دکھا مجھے بھی تو چہرہ تجلیوں میں چھپا

کہ اس شعور کو اپنی نظر سے پڑھ گزرو

تقاضہِ گو کہ ھے یکساعطامیں فرق لئے

معیارِ سوچ میں فرعون کچھ غلط تو نھی

نہ دیکھ پائیں گے آنکھیں تیری بصیرت پر

یقین گر نہ ھو دیکھے بنا یوں غَیبت پر

( ڈاکٹررضا)