رسالتِ محمدُ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان کے بغیر عقیدہِ توحید بے منطق و بے معنی ھےتوحید جذبہ ایمان و یقینِ رسالت سے جڑا ھےیوں توحید منسب رسالت پرحقِ وحدانیت کی واحد سبیل ھےگویا نام وحدہ لا شریک ، بلا وجودِ شرکتِ محمد، منسبِ لاشریک پر فائض نھی ھو سکتا، گویا واحدانیت کے نور پر احد نھی کہلا سکتا ، جب تکزبانِ محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحدہ لاشریک کا اقرار نہ کر دےارے کس خدا کی بات کرتے ھو تم لوگ!دعا دو اس خاندانِ نبوت اور خادمِ رسالت کو جس نے پال کر وحدہ لا شریک کی وحدانیت کو محمد کی رسالت سے جوڑ دیا ، یوں کلام حق کوزینتِ وجود دیابس دین تم کو ملا خاندان اس کا کٹاافلاس اس کو ملی اور پھل تم نے کھایاعجب نھی کہ تم مسلمان کہلائے اور اسے کافر ٹھہرا دیاارے جاؤ! تم جس خدا کی عبادت کرتے ھو ، ابو طالب اس خدا کی عبادت نھی کرتا، بلکہ اس کا جواب تو سورہ کافرون کی آیت کا مصداق ھے کہسن لے اے کافروںنھی میں عبادت کرتا جن کی تم عبادت کرتے ھواور نھی تم عبادت کرتےجس کی میں عبادت کرتا ھوںاور نھی تم عبادت کرنے والے جس کی میں عبادت کرتا ھوںاور نھی میں عبادت کرنے والا جن کی تم عبادت کرتے ھواور نھی تم عبادت کرنے والے جس کی میں عبادت کرتا ھوںتمہارا دین تمہارے لئے میرا دین میرے لئے
(ڈاکٹررضا)