قرآن اپنی تکمیل کے اعلان کے بعد کیوں کر اپنے

مخاطب کو اندھیروں کی اس منزل پر چھوڑ جائے

گا، جہاں اسکی اپنی آیاتیں مطالب اور انسانی

سوچ اور اسلوب کے مسلکی الفاظ کی روش پر

چڑھ دوڑیں،گویا آیتوں میں چھپا متن اک نورتن کی

مانند ہر مسلکی رنگ میں، اک نئی ترنگ لئے ترجمے کا

نیا متن بن جائے

کیسے ممکن ھے کہ تکمیل اپنے حسنِ کمال پر ھو اور

کامل یقین شکوک لئے واللہُ عالم کہ ،شبہات پر کیا

یہ عجب نھی کہ جس شاہکار کا آغاز لوحِ قرآنی کے

خوبصورت لفظوں سے ابتدا لےوہ انتہاِ عروج پر

اپنی ھی منطق کی علمی معراج سے محروم ھو۔

عجب نھی یہ واللہُ عالم ھو کا فلسفہ نہ جانے کیوں

کر انسانی شعور سے دور ھے جو بلا شبہ معبود اور

عبد میں فاصلے کی اک واضح اظہار ھے، ایسے کہ

خالی جگہ پر کی جائے ۔ بہرحال حق یہ ھے کہ

آپ وھی سوچیں جس کی اجازت آپ کا شعور

دے اور میں وہ جن کی منزلت میرا شعور سمجھے

بس میں نے آیتوں کے سمندر کو الفاظ کے کوزے

میں بند کر دیا ، گویا الف لام میم کو رب کا اظہار

سمجھا اور ذالکل کتاب کی ابتدا کو اس کوزے میں

چھپے علم کا خلاصہ

اب یہ ضروری تو نھی کہ میں خلاصہ پڑھوں یا اسمِ

الہی کے وہ با برکت لفظ جو کمالِ خلق کی صورت

الف لام میم کی مانند ھو (ڈاکٹررضا)