Capt(R) Syed Ahmad Mobeen Zaidi shaheed, DIG ‘s Own Poetry ; He posted it on 23 january 2017. 
کافر ھُوں، سر پھرا ھُوں، مجھے مار دیجیے

میں سوچنے لگا ھُوں ، مجھے مار دیجیے
ھے احترام ِحضرت ِانسان میرا دین

بے دین ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں پوچھنے لگا ھُوں سبب اپنے قتل کا

میں حد سے بڑھ گیا ہوں، مجھے مار دیجیے
کرتا ھُوں اہل جبہ ودستار سے سوال

گستاخ ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے
خوشبو سے میرا ربط ھے جگنو سے میرا کام

کتنا بھٹک گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے
معلوم ھے مجھے کہ بڑا جرم ھے یہ کام

میں خواب دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
زاہد یہ زہد و تقویٰ و پرہیز کی روش

میں خوب جانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
بے دین ھُوں مگر ھیں زمانے میں جتنے دین

میں سب کو مانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ھُو کا شور

میں آخری صدا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں ٹھیک سوچتا ھُوں، کوئی حد میرے لیے ؟

میں صاف دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
یہ ظلم ھے کہ ظلم کو کہتا ھُوں صاف ظلم

کیا ظلم کر رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں عشق و امن ھون، میں علم ھُوں، میں خواب

اک دردِ لادوا ھُوں ، مجھے مار دیجیے
زندہ رھا تو کرتا رھُوں گا ھمیشہ پیار

میں صاف کہہ رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے
جو زخم بانٹتے ھیں انہیں زیست پہ ھے حق

میں پھول بانٹتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
ہے امن شریعت تو محبت مرا جہاد

باغی بہت بڑا ھُوں، مجھے مار دیجیے
بارود کا نہیں مرا مسلک درود ھے

میں خیر مانگتا ھُوں، مجھے مار دیجیے

****!!!!!!!!!

khali hain haath zukhm lee-aey dil mein aarzoo
Mein bayzuban derd mujhay maar deejeay (Dr Raza)
Hai shehr mein bala cee khamoshi kio jaa bajaa’n
Phirti hai mout yoonhee bahanay lee-aey qaza
Kehnay ko hain shehr meinsubhe loag kalma goe
Kafir magar makeen inhain maardee-jeayy (Dr Raza)

Advertisements